.

حزب اللہ کے نائیجیرین گروپ کے اثانے منجمد

امریکا نے شدت پسند گروپ سے لین دین پر پابندی عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خزانہ نے لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے افریقی ملک نائیجیریا میں موجود نیٹ ورک کے اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ نائیجیریا میں موجود حزب اللہ گروپ کے ساتھ کسی بھی قسم کے لین دین پر پابندی عاید کر دی گئی ہے۔ امریکا کی سر زمین سے کوئی شخص اس گروپ کے ساتھ کسی قسم کا مالی تعاون نہیں کر سکے گا۔

وزارت خزانہ کی جانب سے نائیجیریا میں حزب اللہ کے نیٹ ورک میں شامل تین اہم شخصیات کے نام جاری کیے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک سپر مارکیٹ کا مالک، دوسرا ہوٹلز کی ایک چین اور جبکہ تیسرے کی ایک سرمایہ کار کمپنی ہے۔ یہ تینوں لبنانی حزب اللہ کے ساتھ مالی تعاون کرتے پائے گئے ہیں۔

وزارت خزانہ کی جانب سے پابندی لگائے جانے کے بعد امریکا میں کوئی شخص، کمپنی یا ادارہ حزب اللہ کے نائیجیرین گروپ کے ساتھ کسی قسم کا لین دین نہیں کر سکے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نائیجیریا میں موجود حزب اللہ کے تین سرکردہ عناصر میں دو سگے بھائی ہیں جن میں سے ایک کا نام مصطفیٰ فواز بتایا جاتا ہے۔ سنہ 2013ء میں اسے پولیس نے حزب اللہ کے لیے فنڈنگ کے الزام میں حراست میں بھی لیا تھا۔

دوسرا بھائی فوزی فواز بوجا میں حزب اللہ کا خارجہ تعلقات کا انچارج ہے۔ اسے بھی دہشت گردی کے الزام میں متعدد مرتبہ حراست میں لیا جا چکا ہے۔ اس کے قبضے سے بھاری اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا تھا۔

حزب اللہ کے تیسرے رکن کی شناخت عبداللہ تاحینہ کے نام سے کی گئی ہے۔ عبداللہ نائیجیریا میں حزب اللہ کے فنڈز جمع کرتا رہا ہے۔