.

صنعا حوثیوں کے زیرقبضہ دارالحکومت ہے:منصور ہادی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے صدر عبد ربہ منصور ہادی نے صنعا کو مقبوضہ دارالحکومت قرار دیا ہے اور حوثی باغیوں پر سیاسی ڈائیلاگ کی مخالفت کا الزام عاید کیا ہے۔

العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق صدر عبد ربہ منصور ہادی نے کہا ہے کہ صنعا میں حوثی باغیوں نے جوکچھ کیا ہے،وہ بغاوت ہے۔انھوں نے گذشتہ ہفتے دارالحکومت صنعا سے حوثی شیعہ باغیوں کی جبری نظربندی سے بچ کر عدن پہنچنے کے بعد اپنا استعفیٰ واپس لینے کا اعلان کردیا تھا اور اب وہ اسی جنوبی شہر سے حکومت چلا رہے ہیں۔انھوں نے حوثی باغیوں کے تمام اقدامات غیر قانونی قرار دیا ہے اور ان اقدامات کو کالعدم کر دیا ہے لیکن حوثی بدستور خود کو یمن کا حکمران قرار دے دیا ہے۔

عبد ربہ منصور ہادی کے عدن میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور کویت نے صنعا سے اپنے سفارت خانے عدن میں منتقل کردیے ہیں۔یادرہے کہ عدن 1990ء میں شمالی اور جنوبی یمن کے درمیان اتحاد تک جنوبی یمن کا دارالحکومت رہا تھا۔

درایں اثناء صنعا میں اتوار کو ایران کے دارالحکومت تہران سے آنے والی پہلی پرواز اتری ہے۔ایران اور حوثی باغیوں کے درمیان گذشتہ روز ایوی ایشن سے متعلق ایک سمجھوتا طے پایا تھا۔یمن کے ایوی ایشن کے ایک عہدے دار نے بتایا ہے کہ ماہان ائیرلائنز کے طیارے میں ایرانی ریڈ کراس کی ایک ٹیم ادویہ اور دوسرا امدادی سامان لے کر آئی ہے۔

صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اس پرواز کا خیرمقدم کرنے کے لیے ایران کے سینیر سفارت کار موجود تھے۔یمن کی سرکاری خبررساں ایجنسی سبا کی رپورٹ کے مطابق سمجھوتے کے تحت ایران کی ماہان ائیر اور یمنیہ ائرلائنز ہر ہفتے چودہ، چودہ پروازیں چلائیں گی۔دونوں ممالک کے درمیان کئی سال کے وقفے کے بعد فضائی رابطہ بحال ہوا ہے۔