.

حوثی بغاوت کے بعد پہلی ایرانی پرواز کی صنعاء آمد

صدر منصور ھادی نے ایرانی پروازوں کو غیر قانونی قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں شیعہ مسلک حوثیوں کی مسلح بغاوت اور اقتدار پر قبضے کے بعد یمن کے لیے ایرانی فضائی سروس بحال ہو گئی ہے۔ اس سلسلے میں گذشتہ روز ایران کی پہلی پرواز صنعاء پہنچی۔ دوسری جانب ملک کے منتخب صدر عبد ربہ منصور ھادی نے ایرانی پروازوں کی آمد ورفت کو باطل اور غیر قانونی قرار دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صدر ھادی نے صوبہ مآرب کے ایک نمائندہ وفد سے ملاقات کے دوران ایرانی مسافر طیاروں کی صنعاء آمد کو غیر قانونی قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ حوثیوں نے صنعاء میں شہری دفاع کے سرکاری سربراہ کو ہٹا کر اپنی مرضی کا ایک شخص متعین کر رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور صنعاء کے درمیان پروازوں کی بحالی کا معاہدہ کرنے والوں کا احتساب کیا جائے گا۔ صدر نے الزام عاید کہا کہ ایران، حوثیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح نے مل کر صنعاء پر قبضے کا منصوبہ تیار کیا اور خلیج امن فارمولے کو ناکام بنا دیا گیا۔

حوثی وفد کی ایران روانگی

ایران اور یمن کے حوثی انقلابیوں کے درمیان گہرے مراسم کا اظہار اس امر سے بھی ہوتا ہے کہ ایران نے نہ صرف یک طرفہ طور پر صنعاء کے لیے اپنی پروازیں شروع کیں بلکہ حال ہی میں حوثیوں کا ایک اعلیٰ اختیاراتی وفد بھی دورے پر تہران پہنچ چکا ہے۔ حوثی وفد کی قیادت انقلابیوں کی قائم کردہ عبوری صدارتی کونسل کے چیئرمین صالح الصماد کر رہے ہیں۔

ایران روانگی سے قبل صنعاء میں اپنےایک بیان میں مسٹر الصماد کا کہنا تھا کہ ان کے دورہ ایران کا مقصد تہران کے ساتھ مستقبل میں تعلقات کو مزید وسعت دینے اور اقتصادی اور سیاسی شعبوں میں دو طرفہ تعاون بڑھانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حوثی گروپ کا دورہ ایران جماعت ’انصاراللہ ‘ کے سربراہ عبدالملک الحوثی کے اس اعلان پر عمل درآمد ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ یمن کی حوثی بغاوت کو تسلیم کرنے والے ممالک کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں گے۔

’صنعاء کے لیے خصوصی پرواز‘

درایں اثناء ایران کی سرکاری ائیرلائن کمپنی کے تعلقات عامہ کے سربراہ محمد رحیمی نے تسلیم کیا کہ تہران اور صنعاء کے درمیان پروازوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے اتوار کے روز تہران سے صنعاء پہنچنے والی ایک پرواز کو’خصوصی پرواز‘ قرار دیا۔

مسٹر رحیمی کا کہنا تھا کہ صنعاء کے لیے گذشتہ روز جانے والی پہلی پرواز خصوصی نوعیت کی تھی جس میں مسافر سوار نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کےدرمیان فضائی سروس کی بحالی پر اتفاق ہوا ہے جس کے بعد تہران نے پہلی آزمائشی پرواز صنعاء بھیجی۔ انہوں نے کہاکہ اس پرواز میں ادویہ اور دیگر امدادی سامان یمن بھیجا گیا ہے۔

فضائی سروس بحالی کا معاہدہ

یمن اور ایران کےدرمیان تین روز پیشتر باہمی تعاون کے ایک سمجھوتے کی منظوری دی گئی تھی جس میں حوثیوں کے زیر قبضہ صنعاء سے تہران کے درمیان فضائی سروس کی بحالی پر اتفاق کیا گیا تھا۔ معاہدے کے تحت یمن کی فضائی کمپنی اور ایران کی ’’ماہان‘‘ ایئر لائن کے طیارے دوطرفہ پرازوں کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔

ایران اور یمن کے درمیان فضائی سروس کی بحالی کے حوالے سے طے پائے اس معاہدے کو یمن کےسیاسی حلقوں میں سخت تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ یمن کے صدر جو صنعاء سے فرار کے بعد عدن میں سیاسی ڈیرہ لگائے ہوئےہیں نے الزام عاید کیا ہے کہ ان کے ملک میں حوثیوں کی بغاوت کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔ یمن کی کئی دوسری نمائندہ سیاسی قوتوں کی جانب سے بھی ایران اور حوثیوں کےدرمیان تعلقات پر تشویش کا اظہار کیا گیاہے۔

صدر ھادی نے دارالحکومت صنعاء کو ’مقبوضہ علاقہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صنعاء پر حوثیوں نے غیر قانونی طور پر تسلط قائم کر رکھا ہے۔ انہوں نے حوثیوں کے انقلاب کے دعوےکو مسلح غیر قانونی بغاوت سے تعبیر کیا ہے۔