.

مفرور تیونسی صدر کا خصوصی طیارہ نیلام

خریداروں میں ایک سعودی دولت مند بھی شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کی حکومت نے سابق معزول ومفرور صدر زین العابدین بن علی کو عوامی بغاوت کے بعد سعودی عرب منتقل کرنے والے خصوصی طیارے کو ایک سو پانچ ملین یورو یعنی 220 ملین تیونسی دینار میں نیلام کرنے کا اعلان کیا ہے ۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بوئنگ کمپنی کے اس طیارے سے تیونس کے سابق صدر زین العابدین بن علی اپنے خاندان کے ہمراہ 14 جنوری 2011ء کو ملک چھوڑ گئے تھے۔ تاہم بعد ازاں یہ طیارہ واپس تیونس پہنچا دیا گیا تھا۔

سابق صدر زین العابدین بن علی کی ملکیت سمجھے جانے والے اس طیارے کو مزید پروازوں کے لیے استعمال نہیں کیا گیا بلکہ اسے سابق صدر کے ہاتھوں غصب کردہ قومی املاک کا حصہ قرار دے کر قرطاج بین الاقوامی ہوائی اڈے پر روک دیا گیا تھا۔

تیونسی حکومت نے پہلے بھی اس طیارے کی نیلامی کوشش کی مگر اس کی مناسب قیمت نہ ملنے کے باعث نیلامی روک دی گئی تھی۔ گذشتہ جمعہ کو تیونسی حکومت نے بتایا کہ اس نے بن علی کے خصوصی طیارےکو نیلام کر دیا ہے جس کے خریداروں میں ایک سعودی شہری بھی شامل ہے۔

دو ہفتے قبل تیونسی صدر الباجی قائد السبسی کی زیر صدارت کابینہ کے خصوصی اجلاس میں بن علی کے استعمال میں رہنے والے بوئنگ کمپنی کے طیارے کے فروخت کرنے اور ایوان صدر کے لیے نیا طیارہ خرید کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

تیونس کی سرکاری فضائی کمپنی کی خاتون ڈائریکٹر سلویٰ الصغیر نے گذشتہ ہفتے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا تھا کہ سرکاری فضاَئی کمپنی سنہ 2013ء کے بعد سے سخت مالی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے جس کے باعث وہ کمپنی کے زیر استعمال 10 مسافر طیاروں کو فروخت کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی کو درپیش 114 ملین ڈالر خسارہ پورا کرنے کے لیے طیاروں کو فروخت کرنے کے سوا اور کوئی چارہ باقی نہیں رہا ہے۔ سلویٰ کا کہنا تھا کہ برائے فروخت طیاروں میں معزول صدر زین العابدین بن علی کے زیر استعمال دو ہوائی جہاز بھی شامل ہیں۔ ان میں ایک ’ایئر بس‘ جسے زین العابدین بن علی کے دور میں خریدا گیا تھا مگر اسے استعمال نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ ایک بوئنگ طیارہ جو سابق صدر کے استعمال میں رہاہے فروخت کیے جا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ تیونس کی فضائی کمپنی کی جانب سے حال ہی میں ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ وہ 20 سال پرانے طیاروں کو فروخت کرکے ان کی جگہ نئے طیارے شامل کرنے جا رہی ہے۔ سرکاری فضائی کمپنی کی خاتون سربراہ کا کہنا ہے کہ آئندہ ماہ اپریل اور مئی میں دو بڑے مسافر طیاروں کی فضائی سروس میں شمولیت کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ نئے طرز کے طیاروں کی فضائی سروس میں شمولیت سے کمپنی کو درپیش مالی خسارے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

خیال رہے کہ تیونس کی سرکاری فضائی کمپنی کو بھی پاکستان کی سرکاری ایئر لائن’ پی آئی اے‘ کی طرح پچھلے کئی سال سے خسارے کا سامنا ہے۔ دونوں ملکوں کی کمپنیاں حکومت سے قرض لے کر اپنے اخرابات پورے کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ تیونسی کمپنی نے خسارہ پورا کرنے کے لیے پرانے جہاز فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔