.

یمن: ڈرون حملے میں القاعدہ کے تین مشتبہ جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں امریکا کے بغیر پائِیلٹ جاسوس طیارے کے میزائل حملے میں القاعدہ کے تین مشتبہ جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

قبائلی ذرائع کے مطابق امریکی ڈرون نے جنوبی صوبے شبوۃ کے علاقے مرخا میں القاعدہ کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا ہے اور اس سے تین مشتبہ جنگجو زخمی بھی ہوئے ہیں۔

اس صوبے میں گذشتہ تین روز میں یہ دوسرا ڈرون حملہ ہے۔ہفتے کے روز صوبے کے ایک قصبے بیجان میں ایک گاڑی پر ڈرون کے میزائل حملے میں تین جنگجو ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی قصبے میں القاعدہ کے جنگجوؤں نے گذشتہ ماہ سرکاری فوج کے ساتھ لڑائی کے بعد انیسویں انفینٹری بریگیڈ کے ایک کیمپ پر قبضہ کر لیا تھا۔اس لڑائی میں آٹھ فوجی اور القاعدہ کے چار جنگجو مارے گئے تھے۔تاہم القاعدہ کے جنگجوؤں نے بعد میں کیمپ کا کنٹرول مقامی قبائل کے حوالے کردیا تھا لیکن ہتھیار واپس نہیں کیے تھے۔

واضح رہے کہ اس وقت یمن کے دارالحکومت صنعا میں حوثی شیعہ باغیوں نے قبضہ کررکھا ہے اور وہ اپنی حکومت چلا رہے ہیں جبکہ ملک کے جنوبی صوبوں میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کے حامی قبائلیوں اور سکیورٹی فورسز کا کنٹرول ہے اور دو صوبوں شبوۃ اور حضر موت میں القاعدہ کا اثر ورسوخ ہے۔

امریکا یمن سے تعلق رکھنے والی جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کواس انتہا پسند عالمی نیٹ ورک کی دنیا بھر میں سب سے خطرناک شاخ قرار دیتا ہے۔القاعدہ کی اسی شاخ نے جنوری میں فرانس کے دارالحکومت پیرس میں توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے اخبار چارلی ہیبڈو پر حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔اس حملے میں بارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

امریکا گذشتہ چھے برسوں سے یمن میں القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف ڈرون حملے کررہا ہے۔نیو امریکا فاؤنڈیشن کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق امریکا نے سنہ 2009ء کے بعد یمن میں 110 سے زیادہ ڈرون حملے کیے ہیں۔ستمبر 2011ء میں بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے ایک میزائل حملے میں یمنی نژاد امریکی شہری اور القاعدہ کے لیڈر انور العولقی ہلاک ہوگئے تھے۔ان پر جنگجوؤں کو امریکا پر حملوں کی شہ دینے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔