.

اسرائیل جوہری مذاکرات کی تفصیل پبلک نہ کرے: کیری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو خبردار کیا ہے کہ وہ کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران ایران کے متنازع جوہری پروگرام کے حوالے سے ہونے والی بات چیت کی تفصیلات بیان کرنے سے سختی سے گریز کریں۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاھو آج کانگریس کے اجلاس سے خطاب کر رہےہیں۔ ان کا یہ خطاب اسرائیل میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے محض دو ہفتے قبل ہے اور انتخابات کے چند روز بعد ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان تہران کے متنازع جوہری پروگرام پر معاہدے کا بھی امکان دیکھا جا رہا ہے۔

ادھر وائٹ ہائوس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے کانگریس کے اجلاس سے خطاب کے دوران ایران کے متنازع جوہری پروگرام کی تفصیلات بتانے سے ایران کے ساتھ ممکنہ سمجھوتے کی راہ میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہو گی۔

وائٹ ہائوس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے متنازع جوہری پروگرام کا پرامن اور سفارتی حل پوری عالمی برادری کی مشترکہ کوشش ہے۔ عالمی برادری ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اپنی تشویش ختم کرنا چاہتی ہے۔ اس مقصد کے لیے امریکا بھی عالمی برادری کے ساتھ ہے۔

کل سوموار کو امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے سوئٹزرلینڈ کے شہر مونٹرو میں اپنے ایرانی ہم منصب محمد جواد ظریف سے ایک بارپھر ملاقات کی ہے۔ ان کی یہ ملاقات تہران کے متنازعہ نیوکلیر پروگرام کے حوالے سے جاری مذاکرات کے تسلسل کی کڑی ہے۔ مذاکرات کا یہ سلسلہ کل بدھ کی شام تک جاری رہے گا جس میں امریکی حکام کے علاوہ دوسرے ممالک کے مندوبین اور ایرانی حکام شرکت کریں گے۔

گذشتہ روز کے مذاکرات میں امریکی وزیر برائے توانائی ارنسٹ مونیز اور ایران کے سینیر مذاکرات کار علی اکبر صالحی نے شرکت کی۔ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی یہ بات چیت ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی۔

ادھر جنیوا میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے کہا کہ ایران کے متنازع جوہری پروگرام کے حوالے سے ہونے والی ‘ان کیمرہ’ بات چیت کو منظر عام پر لانے سے بات چیت کا عمل تعطل میں پڑ سکتا ہے۔ اس لیے کسی کو بھی مذاکرات کو تعطل میں ڈالنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ ان کا اشارہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی اس دھمکی کی جانب تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ کانگریس کے اجلاس سے خطاب کے دوران ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات کی تفصیلات بیان کریں گے۔

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم ایران کے ساتھ اس لیے بات چیت نہیں کر رہے ہیں کہ اسے جوہری اسلحہ کے حصول کا نیا موقع دینا چاہتے ہیں بلکہ ہم ایران کو جوہری ہتھیاروں سے دور کرنے کے لیے ایک معاہدہ کرنے جا رہے ہیں لیکن ہمیں اس معاہدے پرعمل درآمد کے حوالے سے کوئی ضمانت حاصل نہیں ہے۔

ادھر ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ جان کیری کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں کوئی اہم پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عالمی برادری کی طرف سے ایران پر عاید اقتصادی پابندیاں اٹھانے کا عزم کیا گیا تو اس بار معاہدہ ممکن ہے۔