.

ایران کو ایک دہائی کے لئے نیوکلئیر پروگرام روکنا ہوگا: اوباما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ ایران کو کسی تاریخی نیوکلئیر معاہدے تک پہنچنے کے لئے اپنا جوہری پروگرام کم از کم دس سال تک منجمد کرنے کا عہد کرنا ہوگا۔ اوباما کا یہ بھی کہنا تھا کہ ابھی تک کسی معاہدے کی تکمیل کے امکانات کم ہی ہیں۔

وائٹ ہائوس میں برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کو دئیے جانے والے ایک انٹرویو میں اوباما کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی کانگریس میں ایران معاہدے کے خلاف تقریر پر تنازعہ انتشار توجہ کا باعث ہے مگر یہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کے درمیان کوئی مستقل خلش نہیں ڈال سکے گی۔

مگر ان کا کہنا تھا کہ ان کی انتظامیہ اور اسرائیلی حکومت کے درمیان ایران کو نیوکلئیر ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے مشترکہ مقصد کو حاصل کرنے کے طریقہ کار پر 'قابل ذکر اختلافات' ہیں۔

امریکی صدر کا کہنا تھا "اگر ایران دس سال یا اس سے زیادہ عرصے کے لئے اپنے جوہری پروگرام کو اسی جگہ پر مجنمد کرنے پر اتفاق کر لے اور اگر وہ موجودہ پروگرام کو کم کرنے پر آمادگی ظاہر کردے اور ہم کسی طریقے سے اس کی تصدیق کر لیں تو اس کے علاوہ اور کوئی اقدامات نہیں ہیں جن کے ذریعے سے ہم یہ یقینی بنا سکیں کہ ایران کے پاس کوئی جوہری ہتھیار موجود نہیں ہے۔"

اوباما کا کہنا تھا کہ امریکا کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش اور جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے دوران کم از کم ایک سال عرصہ ہو تاکہ ہم اس عمل کو پہلے دیکھ سکیں۔

اسرائیل کو خدشہ ہے کہ اوباما کی ایران ڈپلومیسی کی وجہ سے ایران تمام پابندیوں کے باوجود ایٹم بم بنا لے گا۔ تہران کے مطابق اس کا جوہری پروگرام صرف پر امن مقاصد کے لئے ہے۔

اوباما نے نتین یاہو کے ساتھ کانگریس میں تقریر پر معاملے میں طویل مدتی نقصان کو کم کرنے کے لئے کہا کہ یہ تنازعہ ذاتی نوعیت کا نہیں اور اگر نیتن یاہو 17 مارچ کو ہونے والے اسرائیلی انتخابات میں کامیابی حاصل کرلیں تو وہ اسرائیلی رہنما سے دوبارہ ملاقات کریں گے۔

مگر اوباما کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو اس سے پہلے بھی 2013 میں ایران کے ساتھ کئے جانے والے عبوری معاہدے کی مخالفت میں غلطی کے مرتکب تھے۔ اوباما کے مطابق "نیتن یاہو نے ہر طرح کے دعوے کئے تھے کہ یہ ایک انتہائی برا معاہدہ ہے۔ اس معاہدے سے ایران کو 50 ارب ڈالر کا ریلیف مل جائے گا۔ ایران اس معاہدے کی پاسداری نہیں کرے گا۔ ان میں سے کچھ بھی صحیح ثابت نہیں ہوا۔

"ہم نے دیکھا ہے کہ اس عرصے کے دوران ایران نے اپنے پروگرام میں پیش رفت نہیں کی ہے بلکہ کئی پہلوئوں سے پروگرام کے کئی عناصر کو ختم کردیا گیا ہے۔"

اوباما نے 30 جون کی ڈیڈ لائن تک کسی معاہدے پر اتفاق رائے کے حوالے سے کہا کہ خدشہ ہے کہ ایران کڑی انسپیکشن اور یورینیم کی کم مقدار کو افزودہ کرنے کے مطالبات پر اتفاق نہیں رکے گا۔

اوباما کا کہنا تھا "اگر ایران اتفاق کر لیتا ہے تو یہ اقدامات کسی بھی نیوکلئیر پروگرام کو کنٹرول کرنے کے لئے کسی فوجی ایکشن یا اسرائیلی فوجی ایکشن اور معاشی پابندیوں سے کہیں زیادہ کارگر ثابت ہوں گے۔"