.

تکریت میں ایرانی جنرل کی نگرانی میں عراقی فوج کا آپریشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شمالی شہر تکریت میں سرکاری فوج اور شیعہ ملیشیا کی جانب سے شدت پسند تنظیم دولت اسلامی’’داعش‘‘ کے خلاف بڑے پیمانے پر زمینی اور فضائی آپریشن کی تیاری کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ اس آپریشن کی نگرانی ایران کی بیرون ملک سرگرم القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کر رہے ہیں۔

ایرانی پاسداران انقلاب کی مقرب خبر رساں ایجنسی’’فارس‘‘ نے ایک مصدقہ ذریعے کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی جو چند ماہ قبل عراق ہی میں دولت اسلامی کے ہاتھوں زخمی ہو گئے تھے ایک بار پھر عراق کے محاذ پر موجود ہیں اور وہ تکریت میں داعش اور مصلوب صدر صدام حسین کی جماعت البعث کے جنگجوئوں کے خلاف آپریشن میں مدد کر رہے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق تکریت شہر کا مکمل محاصرہ کرلیا گیا ہے۔ شہر کے تمام خارجی اور داخلی راستوں پر عراقی فوج اور اس کے حامی شیعہ ملیشیا کےجنگجو بڑی تعداد میں مسلح گشت کر رہے ہیں۔ داعش اور بعث پارٹی جنگجوئوں کے مراکز پر راکٹ حملے بھی شروع کر دیے گئے ہیں۔ فضائی بمباری جاری ہےجس میں لڑاکا طیاروں کے ساتھ ساتھ بغیر پائلٹ کے ڈرون طیارے بھی حصہ لے رہے ہیں۔ بری فوج توپخانے اور ٹینکوں سے گولہ باری کررہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عراقی فوج نے 48 گھنٹوں کے اندر اندر تکریت پر دوبارہ اپنا کنٹرول قائم کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔

’’فارس‘‘ نے تکریت کو القدس فورس کا نیا مرکز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تنظیم کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی ہفتے کی شام کو اس علاقے میں پہنچے تھے اور وہ اب تکریت میں جاری آپریشن کی نگرانی کر رہےہیں۔ جنرل سلیمانی عراق فوج کو عسکری شعبے میں صلاح مشورے دینے کے ساتھ ساتھ عملا فوجی کارروائی میں بھی حصہ لیں گے۔ ان کے ہمراہ عراق کے ایک شیعہ عسکری گروپ’’اھل الحق‘‘ کے سربراہ الخز علی بھی شامل ہیں تکریت آپریشن میں شامل ہیں۔

خیال رہے کہ عراقی حکومت نے اتوار کے روز اپنے ایک بیان میں داعش کے زیر قبضہ تکریت شہر میں ایک بڑے آپریشن کا اعلان کیا تھا۔ حکومت کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تکریت پر قبضے کے لیے عراق کے تمام سیکیورٹی ادارے اور غیر سرکاری عسکری تنظیمیں بھی حصہ لیں گی۔ یہ غیر سرکاری تنظیمیں ایرانی پاسداران انقلاب کی ایک باسیج فورس کی طرز پر قائم کی گئی ہیں فوج کے ہمراہ مختلف عسکری کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہیں۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی’’فارس‘‘ کے مطابق تکریت کو داعش سے آزاد کرانے میں ایرانی ملیشیا کا کردار کئی حوالوں سے اہمیت کا حامل ہے۔ تکریت کو داعش سے چھڑانے میں ایرانی جنرل اور جنگجو اس لیے بھی حصہ لے رہے ہیں کیونکہ یہ شہر عراق کے سابق ڈکٹیٹر صدام حسین کا آبائی شہر ہے۔

عراق اور ایران کے درمیان آٹھ سال تک جاری رہنے والی جنگ میں بھی یہ شہر نہایت اہمیت کا حامل رہا ہے اور اس شہر کو تاخت وتاراج کرنا ایرانیوں کا خواہش رہی ہے۔ چونکہ صدام کے دور میں تو یہ خواہش پوری نہیں ہو سکی لیکن وہ اب اسے اپنی علامتی فتح کے لیے شہر میں داعش کے اور البعث پارٹی کی باقیات کے خلاف آپریشن کر رہے ہیں۔