.

ذاتی ای میل:ہلیری نے امریکی قانون کی خلاف ورزی کی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی سابق خاتون اول ہلیری کلنٹن صدر براک اوباما کے پہلے دور صدارت میں سیکریٹری آف اسٹیٹ (وزیرخارجہ) کی حیثیت سے ہرقسم کی برقی مراسلت کے لیے اپنا ذاتی ای میل ایڈریس استعمال کرتی رہی تھیں۔

اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنی سوموار کی اشاعت میں لکھا ہے کہ وہ اس طرح ممکنہ طور پر ''وفاقی ریکارڈز قوانین'' کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی تھیں۔ان کی اس برقی مراسلت کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ذاتی ای میلز کم محفوظ ہوتی ہیں اور انھیں ہیک کیا جاسکتا ہے۔

نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ہلیری کلنٹن کو اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ کی حیثیت سے چار سالہ دور میں وفاقی حکومت کی جانب سے کوئی ای میل ایڈریس نہیں دیا گیا تھا۔

فیڈرل ریکارڈ ایکٹ کے تحت ان کا سرکاری ای میل ایڈریس ہونا ضروری تھا لیکن اخبار کی رپورٹ کے مطابق ان کے معاونین نے محکمہ خارجہ کے سرور پر ان کی ذاتی ای میلز کو بھی محفوظ کرنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا تھا اور یہ ممکنہ طور پر وفاقی قانون کے تقاضوں کی خلاف ورزی ہے کیونکہ سرکاری مراسلت کا ریکارڈ محکمے کے سرور پر موجود ہونا ضروری ہے۔

رپورٹ کے مطابق سرکاری تجزیہ کاروں نے اس خبر کو ''الارمنگ'' قرار دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ایسا تو سوچنا بھی مشکل ہے کہ ایک ادارے کی سربراہ اور کابینہ کی وزیر کو سرکاری برقی مراسلت کے لیے ذاتی ای میل ایڈریس استعمال کرنے کی اجازت دے دی جائے۔

ہلیری کلنٹن کے ترجمان نِک میرل نے نیویارک ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وزیرخارجہ کی حیثیت سے ذاتی ای میل پر مراسلت کرتے وقت تمام قواعد وضوابط کی پاسداری کرتی رہی تھیں۔تاہم انھوں نے اس کی وضاحت نہیں کی۔

امریکی قانون کے تحت وفاقی وزراء کی ای میلز گورنمنٹ سرورز پر موجودہ ہونا ضروری ہے تاکہ ان کو تلاش کیا جاسکے۔سرکاری کے مقابلے میں ذای ای میلز محفوظ نہیں ہوتی ہیں اور انھیں وفاقی حکام شاذ ہی اور ہنگامی صورت حال میں استعمال کرتے ہیں۔

اخبار نے لکھا ہے کہ ہلیری کلنٹن کی جانب سے محکمہ خارجہ کے تمام کام کے لیے ذاتی ای میل کا استعمال صرف انہی کے لیے خاص تھا۔انھیں امریکا میں 2016ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے ڈیمو کریٹک پارٹی کی غیرعلانیہ امیدوار سمجھا جارہا ہے۔وہ 2008ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات کے لیے بھی امیدوار تھیں لیکن وہ براک اوباما کے مقابلے میں ڈیمو کریکٹ پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے میں ناکام رہی تھیں۔براک اوباما نے صدر منتخب ہونے کے بعد ہلیری کلنٹن کو اپنی کابینہ میں محکمہ خارجہ کا قلم دان سونپا تھا۔