.

شام جانے والے 180 امریکیوں میں سے 40 واپس آچکے: امریکی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ شام کے محاذ جنگ میں سرگرم شدت پسند گروپوں میں شمولیت یا دیگرمقاصد کے لیے ان کے ملک سے 180 افراد بھی گئے تھے جن میں سے 40 گھروں کو واپس لوٹ آئے ہیں۔

غیر ملکی خبررساں اداروں کے مطابق امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈائریکٹر جیمز کلابر نے اپنے ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کوئی 200 کے قریب امریکی شہری بھی شام کے محاذ جنگ پر گئے تھے تاہم ان میں سے 40 واپس آچکے ہیں۔ کلابر کے مطابق شام جانے والوں میں بعض امدادی اداروں کے ملازمین بھی ہوسکتے ہیں اور شام کےمحاذ جنگ سے واپس لوٹںے والوں کے مستقبل کے عزائم اور سازشوں کے بارے میں انہیں علم نہیں ہے۔

خارجہ تعلقات کونسل کے فورم کو بریفنگ دیتے ہوئے مسٹر کلابر کا کہنا تھا کہ شام جانے والے تمام افراد کے بارے میں وہ تصدیق نہیں کرسکتے کہ آیا وہ پُرتشدد کارروائیوں میں بھی ملوث تھے یا نہیں۔ واپس آنے والوں میں تمام افراد امریکا کی شہریت رکھتے ہیں اور وطن واپسی اُن کا حق بھی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں جیمز کلابرکا کہنا تھا کہ شام اور عراق میں سرگرم دہشت گرد تنظیم ’’داعش‘‘ اور القاعدہ جیسے گروپوں کے لیے فنڈز جمع کرنے کی مہمات میں بھی قابل ذکر کمی آئی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ امریکا اور علاقائی حکومتوں کی طرف سے شدت پسندوں کی مانیٹرنگ میں سخت پالیسی اپنانا شامل ہے۔

دوسری جانب امریکی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی اولین ترجیح دولت اسلامیہ کو شکست دینا تو ہے ہی مگر امریکا شام میں صدر بشارالاسد کو بھی اقتدار سے ہٹانے کی اپنی پالیسی پر قائم ہے۔ امریکا سمجھتا ہے کہ شام میں شدت پسند گروپوں کی سرگرمیوں کا ایک سبب صدر بشارالاسد کا اقتدار میں رہنا بھی ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف سرگرم اعتدال پسند اپوزیشن کی چھان بین اور اپوزیشن کی نمائندہ فوجیوں کی بھرتی اور ان کی عسکری تربیت کا عمل جاری رکھے گا۔