.

ترک صدر کے کھانے کی ’چیکنگ‘ کے لیے لیبارٹری کا قیام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے اسلام پسند صدر کے استنبول میں ایک پرتعیش محل پر اعتراضات کے بعد ایک نئی خبر سامنے آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ صدر رجب طیب ایردوآن کے کھانے کی چیکنگ کے لیے جلد ہی ایوان صدرمیں میں ایک لیبارٹری بھی قائم کی جائے گی۔ صدر کے لیے تیار کردہ کھانے کی چیکنگ کھانے میں زہر ملائے جانے کے خدشے کے تحت کی جائے گی۔


ترک اخبار ’’حریت‘‘ کے مطابق صدر کے خصوصی معالج جودت ارڈل جو حکمراں جماعت ’’آق‘‘ کے رکن اسمبلی ہیں، نے بتایا کہ صدرمملکت کے کھانے کو ہر قسم کے خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے پہلے لیبارٹری میں چیک کیا جائے گا اور اس کے بعد سے کھانے کے لیے پیش کیا جائے گا۔

ایردوآن کے خصوصی ڈاکٹرکا کہنا ہے کہ ضروری نہیں کہ کوئی شخص صرف اسلحہ کے ذریعے ہی صدر کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ ان پر حملہ کھانے میں زہرملا کر بھی کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھانے اور مشروبات میں بھی زہر ملانے کے علاوہ کسی قسم کا کیمیائی، لیزر بائیولوجیکل مواد شامل کرکے ان کی زندگی کو خطرے میں ڈالا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا ابھی تک اس نوعیت کا کوئی کیس سامنے آیا تو نہیں ہے کیونکہ انقرہ میں قائم صدر کے محل میں کھانا فراہم کرنے سے قبل پانچ ڈاکٹر چوبیس گھنٹے کھانی کی نگرانی کی ڈیوٹی دیتے ہیں۔

خیال رہے کہ رجب ایردوان سنہ 2003ء سے 2014ء تک وزارت اعظمیٰ اور اب صدرمملکت جیسے اہم عہدوں پر فائز رہنے کی وجہ سے مخالفین کی سخت تنقید کا ہدف ہیں۔ صدر کے بعض اقدامات کو مخالفین کی جانب سے ’’جنونی‘‘ نوعیت کے قرار دے کر انہیں طنزیہ انداز میں’’نیا سلطان‘‘ قرار دیا جاتا ہے۔ کچھ ہی عرصہ قبل ان کے ایک نئے صدارتی محل کا میڈیا پر خوب چرچا رہا۔ اس محل کے نہ صرف 1000 شاہانہ کمرے ہیں بلکہ اسے سلجوقی ترکوں کے فن تعمیر کے مطابق تعمیر کیا گیا ہے۔