.

سابق برطانوی میرین شام میں لڑتے ہوئے ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کی شاہی بحریہ کا ایک سابق میرین شام میں کرد جنگجوؤں کی جانب سے دولت اسلامی (داعش) کے خلاف لڑتے ہوئے مارا گیا ہے۔

بی بی سی نے اپنے ایک نشریے میں اس برطانوی میرین کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔اس سے پہلے برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے منگل کو ایک یورپی شہری کی کرد عوامی تحفظ یونٹ ( وائی پی جی) کے ساتھ لڑتے ہوئے مارے جانے کی اطلاع دی تھی لیکن اس کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں کہ وہ برطانوی ہے یا یونانی شہری ہے۔

بی بی سی نے اس ہلاک شخص کی شناخت سابق میرین کونسٹینڈینوس ایرک اسکرفیلڈ کے نام سے کی ہے۔اس کا تعلق برطانیہ کے شمالی علاقے یارک شائر سے تھا۔دوبرطانوی اخبارات ڈیلی ٹیلی گراف اور ڈیلی میل کی رپورٹس کے مطابق اس کی عمر پچیس سال تھی۔

بی بی سی نے بتایا ہے کہ کردنواز ایک برطانوی کارکن نے سکرفیلڈ کے خاندان کو اس کی موت کے بارے میں بتایا تھا اور وائی پی جی نے اس کے خاندان سے اس کی شام ہی میں ایک شہید کے طور پر تدفین کی اجازت بھی طلب کی تھی۔

تاہم برطانوی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ اس کے لیے اس طرح کی رپورٹس کی تصدیق مشکل ہے۔دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہم شام میں ایک برطانوی شہری کی ہلاکت سے متعلق رپورٹس سے آگاہ ہیں۔شام میں چونکہ ہماری نمائندگی نہیں ہے،اس لیے وہاں ہلاکتوں یا زخمیوں کی تصدیق بہت مشکل ہے اور وہاں برطانوی شہریوں کی مدد کے لیے ہمارے آپشن بھی بہت محدود ہیں''۔

شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق سابق برطانوی میرین منگل کے روز اپنے زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا تھا۔وہ ایک روز پہلے الحسکہ میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف لڑتے ہوئے زخمی ہوگیا تھا۔وہ الحسکہ کے قصبے تل حمیس کے جنوب مغرب میں واقع ایک محاذ پر داعش کے جنگجوؤں کے خلاف لڑرہا تھا۔

کرد جنگجوؤں نے گذشتہ ہفتے داعش سے تل حمیس کا قبضہ واپس لیا تھا اور انھیں وہاں سے پسپا ہونے پر مجبور کردیا تھا۔اسی علاقے میں گذشتہ ہفتے ایک آسٹریلوی شہری بھی کردوں کی جانب سے داعش کے خلاف لڑتے ہوئے ہلاک ہوگیا تھا۔

واضح رہے کہ مغربی شہریوں کی ایک معقول تعداد شام میں کرد جنگجوؤں کے ساتھ مل کر داعش کے خلاف لڑرہی ہے۔البتہ ان کی تعداد داعش کی صفوں میں شامل مغربی شہریوں کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔بعض رپورٹس کے مطابق صرف ایک یورپی ملک برطانیہ کے قریباً پانچ سو شہری داعش میں شامل ہیں اور اس وقت عراق اور شام میں مختلف محاذوں پر داد شجاعت دے رہے ہیں۔