.

ایران کا 10 سال کے لیے جوہری سرگرمیاں محدود کرنے کا عندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے متنازعہ جوہری پروگرام پر ممکنہ ڈیل کی صورت میں جوہری سرگرمیاں دس سال کے لیے جزوی طورپر محدود کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کا کہنا ہے کہ ان کا ملک جوہری سرگرمیوں پر دس سال کے لیے جزوی پابندی قبول کرسکتا ہے۔ تاہم انہوں نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔

قبل ازیں امریکی صدر باراک اوباما نے’’رائیٹرز‘‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران ایک عشرے کے لیے جوہری سرگرمیاں ترک کردے تاکہ اس کی حساس جوہری تنصیبات کا مکمل معائنہ کرنے کے ساتھ ساتھ جوہری معاہدے کو قانونی شکل دی جاسکے۔

اسی حوالے سے امریکی ٹی وی ’’سی این این‘‘ کی خاتون صحافی نے ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف سے ان کا موقف جاننا چاہا اور پوچھا کہ آیا ایران دس سال کے لیے اپنے ’پرامن‘ جوہری پروگرام کو دس سال کے لیے روکنے پر تیار ہے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ اگرہمارے درمیان کوئی معاہدہ طے پاجاتا ہے تو ہم وقت مقررہ کے لیے کچھ پابندیاں قبول کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن میں اس وقت ’’آن ائیر‘‘ مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہوں۔

قبل ازیں ایرانی ذرائع ابلاغ نے بھی وزیرخارجہ جواد ظریف کا ایک بیان نقل کیا تھا جس میں انہوں نے صدر اوباما کی جانب سے دس سال کے لیے جوہری پروگرام ترک کرنے کا مطالبہ مسترد کردیا تھا۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری اپنے ایرانی ہم منصب محمد جواد ظریف کے ساتھ پچھلے ایک ہفتے سے میراتھن مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ رواں ہفتے سوئٹرزلینڈ کے شہر مونٹرو میں ہونے والی ملاقات کے بعد اسی ماہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان تہران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر سمجھوتے کا امکان دیکھا جا رہا ہے۔

امریکی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ہم نے مذاکرات کے دوران اہم پیش قدمی کی ہے۔ کچھ ایشوز پرابھی مزید تفصیلی بات چیت کی ضرورت ہے تاہم امید ہے کہ ہم آئندہ چند ہفتوں کے دوران اس حوالے سے کوئی عملی قدم اٹھا لیں گے۔

خیال رہے کہ ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر پچھلے سال ہونے والے مذاکرات میں کسی سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے امریکا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین نے رواں سال جون تک ڈیڈ لائن کی توسیع کی تھی۔ تاہم اب مارچ کے آخر میں معاہدے کا امکان دیکھا جا رہا ہے۔