.

تیونس:لیبیا کی سرحد کے نزدیک اسلحہ ،گولہ بارود برآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے فوجیوں نے لیبیا کی سرحد کے نزدیک بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کر لیا ہے۔تیونسی حکومت کی اطلاع کے مطابق اس اسلحے میں کلاشنکوف رائفلیں ،راکٹ گرینیڈ اور بارودی سرنگیں شامل ہیں۔

تیونس کی وزارت داخلہ کے ترجمان محمد علی العروی نے جمعہ کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے جنوبی شہر بن قردان میں جمعرات کی شب چھاپہ مار کارروائی کی تھی اور انھوں نے آتشیں رائفلوں کےعلاوہ راکٹ گرینیڈوں اور دھماکا خیز مواد کی بہت بڑی مقدار ضبط کر لی ہے۔

تیونس کی سکیورٹی فورسز الجزائر کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے جبل الشعانبی میں انتہا پسند اسلامی گروپوں کے خلاف کارروائی کررہی ہیں۔اس وقت دو اسلامی جنگجو گروپ اس ملک میں بروئے کار ہیں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے جنگجو لیبیا میں قدم جمانے کے بعد کے بعد اب اس ملک میں بھی دراندازی کی کوشش کررہے ہیں۔

تیونس کی سکیورٹی فورسز نے اسی ہفتے الجزائر کی سرحد کے نزدیک واقع جبل الشعانبی میں جھڑپوں کے دوران دو اسلامی جنگجوؤں کو ہلاک کردیا تھا۔اسی علاقے میں قبل ازیں فوج کے دستے پر جنگجوؤں نے حملہ کیا تھا۔

تیونس میں سنہ 2011ء کے اوائل میں مطلق العنان صدر زین العابدین بن علی کی حکومت کے خاتمے کے بعد ابھرنے والے گروپوں میں انصار الشریعہ سب سے نمایاں ہے۔امریکا اور یورپی یونین نے اس گروپ کو تیونس میں 2012ء میں امریکی سفارت خانے پر حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔

اس وقت تین ہزار سے زیادہ تیونسی جنگجو عراق اور شام میں موجود ہیں اور وہ مختلف جہادی گروپوں کی صفوں میں شامل ہو کر لڑرہے ہیں۔ان میں زیادہ تر داعش یا پھر شام میں القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ میں شامل ہیں۔تیونسی حکام یورپی عہدے داروں کی طرح اس خدشے کا اظہار کرتے رہتے ہیں کہ یہ جنگجو اپنے آبائی ملک میں لوٹنے کے بعد دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوّث ہوسکتے ہیں اور حملے کرسکتے ہیں۔