.

خاتون کو کوڑے مارنے کی جعلی خبر، سعودی عرب کے خلاف سازش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوشل میڈیا پر بیشتر خبریں اورمتنازعہ نوعیت کی تصاویر کسی تصدیق کے بغیر پوسٹ کیے جانے سے بعض اوقات ایک تشویشناک صورت حال جنم لے لیتی ہے۔ حال ہی میں انسانی حقوق کی ایک مشہور تنظیم "ہیومن رائٹس واچ‘‘ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کینتھ روتھ نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ’’ٹیوٹر‘‘ کے اپنے خصوصی صفحے پر ایک تصویر پوسٹ کی جس میں ایک نقاب پوش شخص کو ایک سفید کپڑوں میں ملبوس خاتون کو کوڑے مارتے دکھایا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق کینتھ روتھ کی پوسٹ کردہ تصویر سے یہ تاثر دیا گیا ہے کہ یہ سعودی عرب میں پیش آنے والا کوئی واقعہ ہے اور سعودی مذہبی پولیس کا کوئی اہلکار سرعام کسی خاتون کو کوڑے مار رہا ہے۔ یوں اس تصویر کے ذریعے سعودی عرب کو بدنام کرنے اور انسانی حقوق کی پامالی کا مرتکب ٹھہرانے کی بھونڈی کوشش کی گئی ہے۔

ایسی کوئی بھی تصویر، ویڈٰیو یا کوئی بھی خبرسوشل میڈیا پر جنگل میں آگ کی طرح پھیلتی ہے۔ کینتھ روتھ کی شیئر کردہ تصویر اور اس کے ساتھ جعلی خبر بھی نہایت تیزی کے ساتھ انٹرنیٹ پر شیئر کی جانے لگی یہاں کہ دیکھتے ہی دیکھتے کینتھ کے اکائونٹ پر اس تصویر کے فالورز کی تعداد ہزاروں میں ہوگئی اور اس پر طرح طرح کے تبصرے ہونے لگے۔ کوئی سعودی عرب کو گالی دیتا اور کوئی اور سرے عام خواتین کو کوڑے مارے جانے کی حمایت کرتا دکھائی دیتا۔ ایسے میں اندھا دھند تبصرہ آرائی کرنے والوں کو لگام دی بھی کیسے جاسکتی ہے لیکن انہیں یہ بات کون سمجھائے کہ کسی بھی خبر پرتبصرہ کرنے سے قبل اس کے اصلی یا جعلی ہونے کی تصدیق کی زحمت بھی کرلیا کریں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اس نوعیت کا کوئی واقعہ حال ہی میں سعودی عرب میں پیش نہیں آیا ہے تاہم سنہ 2006ء میں ایسا ایک واقعہ قطیف شہرمیں پیش آچکا ہے۔ اس واقعے میں ایک خاتون کو کوڑے مارنے والوں کو باقاعدہ سزا بھی ہوئی تھی اور سابق سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے حکم پر خاتون کو بری کردیا گیا تھا۔ اس کے بعد سعودی عرب میں اس نوعیت کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔

’’گوگل‘‘ کے ذریعے سرچ کرنے پر پتا چلا ہے کہ یہ کسی دوسرے ملک میں لی گئی تصویر ہے۔ ممکنہ طورپر واقعہ انڈونیشیا میں پیش آیا ہے اور اسے انسانی حقوق کے نام نہاد اداروں نے ایک سازش کے تحت سعودی عرب کےسر تھوپنے کی کوشش کی ہے.