.

مالی :ہوٹل میں مسلح افراد کا حملہ، فرانسیسی سمیت پانچ ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقی ملک مالی کے حکام کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز دارالحکومت باماکو کے ایک مقامی ہوٹل میں مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں کم سے کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ مرنے والوں میں ایک فرانسیسی اور ایک بلیجیم کا باشندہ بھی شامل ہے۔q

مالی کی پولیس کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ہفتے کے روز علی الصباح مسلح افراد نے ایک ہوٹل میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک گئے۔ پولیس نے حملے کے شبے میں دو افراد کو حراست میں لیا ہے، جن سے پوچھ تاچھ جاری ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مالی کی پولیس کی جانب سے دارالحکومت باماکو میں غیر ملکی تنصیبات کی سیکیورٹی سخت کی گئی ہے تاہم اس کے باوجود پرتشدد واقعات بھی رو نما ہو رہے ہیں۔ عام شہری انتقامی کارروائیوں کے خوف سے دہشت گردی کے واقعات کے بارے میں گواہی دینے سے گریزاں ہیں۔

ادھر باماکو میں فرانسیسی سفارت خانے کی جانب سے مالی میں موجود تمام فرانسیسی شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر کھلے مقامات میں نہ نکلیں۔ فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے مالی میں پیش آئے دہشت گردی کے تازہ واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور اسے ایک بزدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔

فرانسیسی ایوان صدر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پیرس مالی میں دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے باماکو کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔ اس سلسلے میں صدر اولاند کی مالی کے ہم منصب ابراہیم ابوبکر کیتا کے درمیان بات چیت بھی ہوئی ہے۔

فرانسیسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں بھی مالی میں دہشت گردی کے تازہ واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے وہاں پر موجود فرانسیسی شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مالی میں دہشت گردوں کا حملہ بزدلانہ کارروائی ہے اور اس کارروائی سے فرانس کے دہشت گردی کے خلاف جنگ غیر متزلزل عزم میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔

درایں اثناء بیلجیم کے وزیرخارجہ ڈیڈیہ رینڈیریز نے ریگا میں منعقدہ یورپی یونین کے اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے باماکو دہشت گردی کے واقعے کی شدید مذمت کی۔

یاد رہے کہ مالی کے شمالی علاقےپچھلے کچھ عرصے سے دہشت گردی کی زد میں رہے ہیں تاہم دارالحکومت باماکو کو کسی حد تک محفوظ سمجھا جاتا رہا ہے، خاص طورپر صحارا کے علاقوں میں علاحدگی پسند باغیوں کے خلاف مالی کی یورپی ممالک کے تعاون سے کارروائی کے بعد شدت پسند شہری علاقوں سے نکل گئے تھے۔ تاہم تازہ واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ شدت پسند ایک بار پھر ملک میں دہشت گردی پھیلانے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔