.

عالمی یومِ خواتین:یورپی یونین کا صنفی امتیاز کے لیے عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان سمیت دنیا بھر میں اتوار 8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن اور صنفی امتیاز سے متعلق بیجنگ اعلامیے کی بیسیویں سالگرہ منائی گئی ہے۔اس موقع پر یورپی یونین نے دنیا بھر میں صنفی امتیازکو یقینی بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

خواتین کے عالمی دن کے موقع پر یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا مغرینی، تنظیم کے تارکین وطن ،داخلہ امور اور شہریت سے متعلق امور کے کمشنر دیمریطس آوراموپولس ،کمشنر برائے بین الاقوامی تعاون اور ترقی نیوین میمیکا ،روزگار ،سماجی امور ،مہارت اور لیبر موبلٹی کمشنر میریان تھائسین ،انسانی امداد اور کرائسس مینجمنٹ کے کمشنر کرسٹوس اسٹائیلینائیڈز اور کمشنر برائے انصاف، صارفین اور صنفی امتیاز ویرا جوروفا نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں کہا ہے کہ ''یورپ سنہ 1957ء سے صنفی امتیاز کے لیے کوشاں ہے اور یہ اس کے ڈی این اے میں شامل ہے''۔

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ''حالیہ برسوں میں یورپ نے جو کچھ حاصل کیا ہے،ہم پر اس فخر کرسکتے ہیں۔صنفی امتیاز اب کوئی ادھورا خواب نہیں رہا ہے بلکہ یورپ میں وقت کے ساتھ ایک حقیقت بنتا جارہا ہے مگر ہمیں اس کے باوجود سخت محنت کرنا ہوگی''۔

یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ ہم تن خواہوں ،روزگار اور فیصلہ سازی سے متعلق ملازمتوں میں خواتین کو ملازمتیں دے کر ادائیوں میں فرق کو کم کرسکتے ہیں لیکن کسی بھی ملک نے ابھی تک مکمل طور پر صنفی امتیاز کا ہدف حاصل نہیں کیا ہے۔

بیان کے مطابق ''ہم نے خواتین اور مردوں کی برابری کے لیے بہت زیادہ پیش رفت کی ہے لیکن ابھی بہت سے فرق موجود ہیں۔خواتین مردوں کے مقابلے میں کم کماتی ہیں اور مردوں سے کم اثاثوں کی مالک ہیں۔سیاسی اور کاروباری دنیا میں ان کی کم نمائندگی ہے۔ہر روز دنیا میں ہزاروں خواتین اور لڑکیوں کو صنفی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتاہے۔جنسی طور پر ان سے ناروا سلوک کیا جاتا ہے۔ان کے نازک اعضاء کاٹ دیے جاتے ہیں۔کم عمری میں ان کی زبردستی شادیاں کردی جاتی ہیں''۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''ہم سرحدوں سے ماورا صنفی عدم مساوات کے خلاف جنگ کے لیے کام کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔خواتین کو مردوں کے شانہ بشانہ تعلیم ،کیرئیر ،خاندان کے ساتھ اور تشدد کے خطرے سے آزاد رہنے کا حق حاصل ہونا چاہیے''۔

اس سال چین کے دارالحکومت بیجنگ میں خواتین کو مردوں کے برابر حقوق دلانے کے لیے منظور کردہ اعلامیے کی بیسویں سالگرہ منائی جارہی ہے۔اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی خواتین ،امن اور سلامتی سے متعلق قرارداد نمبر 1325 کی پندرھویں سالگرہ بھی منائی جا رہی ہے۔ان کے ساتھ اس سال مابعد 2015ء ترقی کے ایجنڈے پر بھی بحث و مباحثہ کیا جائے گا اور اس کے تحت غرب کے خاتمے اور پائیدار عالمی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے لائحہ عمل وضع کیا جائے گا۔