.

خامنہ ای کی علالت، جانیشنی کی بحث دوبارہ شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سرکاری میڈیا میں خلاف معمول پہلی بار سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی خرابی صحت کی خبریں شائع کی گئی ہیں۔ علالت کی حالت میں خامنہ ای کی ایک تازہ تصویر گذشتہ روز سامنے آئی جس میں ایرانی وزیر ماحولیات کو ان سے ملتے اور عیادت کرتے دکھایا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی مسلسل بگڑتی صحت کے بعد ان کی جانشینی کا معاملہ ایران کے سیاسی حلقوں میں ایک بار پھر سے زیر بحث آگیا ہے۔ دوسری جانب روسی اور اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے بھی خامنہ ای کی علالت اور ان کے متوقع جانشینوں پر مباحثے شروع کر دیے ہیں۔

روسی خبر رساں ایجنسی"انٹرفیکس" کی رپورٹ کے مطابق "پروسٹیٹ کینسر" کے شکار آیت اللہ علی خامنہ ای کو تہران کے ایک اسپتال میں خصوصی نگہداشت وارڈ میں منتقل کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ سپریم لیڈر پچھلے سال بھی اسی طرح اچانک علیل ہوگئے تھے جس کے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں آٹھ ستمبر کو ان کے مثانے کی سرجری کی گئی تھی۔ تب بھی ان کے جانشینی کے موضوع پر عالمی ذرائع ابلاغ میں ایک نئی بحث شروع ہوئی تھی اور اب بھی ایسا ہی ہوا ہے۔

فرانسیسی اخبار "لوفیگارو" نے اپنی ایک حالیہ اشاعت میں مغربی انٹیلی جنس حکام کے حوالے سے لکھا ہے ’’مرشد اعلیٰ کی صحت اب انہیں زیادہ عرصے تک زندہ رکھنے کی ضمانت نہیں دے سکتی۔ عمر کے اس حصے میں وہ جس مرض میں مبتلا ہیں وہ انہیں دو سال سے زیادہ زندہ نہیں رہنے دے گا، کیونکہ مثانے کا کینسر نہایت تیزی کے ساتھ پورے جسم میں پھیلتا اور مریض کے لیے جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ کو لاحق کینسر اب چوتھے درجے پر پہنچ چکا ہے‘‘۔ اخبار لکھتا ہے کہ خامنہ ای کی زندگی تو زیادہ دکھائی نہیں دیتی لیکن ایران کی موجودہ قیادت نے کسی کو ان کا جانشین نامزد نہیں کیا ہے۔ جلد ہی ان کی جانشینی کا معاملہ ایک طوفان کی طرح اٹھے گا۔"

خامنہ ای روسی معالج کے زیر نگرانی

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے سیاسی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی طبی حالت نہایت تشویشناک ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر علی رضا نوری زادہ اور ڈاکٹر حسن ھاشمیان نے کہا کہ خامنہ ای اپنی عمر کے آخری حصے میں مثانے کے کینسر میں مبتلا ہیں۔ خدشہ ہے کہ یہ مرض ان کے لیے جان لیوا بن جائے کیونکہ پچھلے کچھ دنوں سے وہ تہران کے ایک اسپتال میں انتہائی نگہداشت وارڈ میں زیرعلاج ہیں۔

ڈاکٹر نوری زادہ نےبتایا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کو دو ہفتے قبل اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی بیماری کا لیزر سے بھی علاج کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس وقت ان کی نگرانی روس کے ڈاکٹر کررہے ہیں۔ جبکہ اس سے قبل جب وہ بیمار پڑے تو ایران اور چین کے ماہرین ان کا علاج کیا تھا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا آیت اللہ علی خامنہ ای کی وفات کی صورت میں ان کا ممکنہ جانشین کو ہوسکتا ہے تو انہوں نے کہا کہ اس وقت ماہرین کونسل میں کئی ایسے نام موجود ہیں جنہیں خامنہ ای کے جانشین کے طورپر پیش کیا جاسکتا ہے تاہم ان میں زیادہ متحرک سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی ہیں۔ رفسنجانی ھاشمی شاہرودی کو بہ طور سپریم لیڈر کسی صورت میں قبول نہیں کریں گے۔ تاہم آیت اللہ علی شاھرودی اس ادارے کے سربراہ ہیں جس نے پیش آئند سپریم لیڈر کا انتخاب کرنا ہے۔ گارڈین کونسل پران کی گرفت مضبوط ہے اور وہ اپنا اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے یہ عہدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بانی انقلاب آیت اللہ علی خمینی کے پوتے حسن خمینی، سابق صدر محمد خاتمی، آیت اللہ علی موسوی بجنوردی اور آیت اللہ موسوی اردبیلی بھی متوقع طورپر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جانشینی کے امیدوار ہوسکتے ہیں۔

مذکورہ تمام امیدواروں میں سابق صدر اور مصالحتی کونسل کے موجودہ چیئرمین علی اکبر ھاشمی رفسنجانی کو زیادہ متحرک سمجھا جا رہا ہے۔ وہ اپنے بیانات میں سپریم لیڈر کی جانشینی کے حوالے سے بات کرتے رہتے ہیں۔

حال ہی میں انہوں نے اخبار’’جمہوری اسلامی‘‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا سوالیہ انداز میں اس بات کا اشارہ کیا تھا کہ سپریم لیڈر کی وفات کے بعد وہی ان کے جانشین ہوں گے۔ انہوں نے استفسار کیا تھا کہ کل کو اگر آیت اللہ علی خامنہ ای وفات پا جاتے ہیں تو قومی اجتہاد، پاسدارن انقلاب کی حمایت اور موجودہ ملکی حالات کے پیش نظر کون بہتر امیدوار ہوسکتا ہے۔" باہیں ہمہ ان کا اشارہ اپنی ہی جانب تھا کہ سپریم لیڈر کا ان سے بہتر کوئی اور امیدوار نہیں ہوسکتا۔