.

یمنی مذاکرات سعودی عرب منتقل کرنے پر خلیجی ممالک متفق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے یمن کےصدر عبد ربہ منصور ھادی کی درخواست پر یمنی سیاسی قوتوں کے درمیان جاری مذاکرات ریاض منتقل کرنے کی اجازت دے دی ہے، جس کے بعد خلیج کے دوسرے ممالک نے بھی اس فیصلے کی حمایت کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق خادم الحرمین الشریفین نے یمنی صدر کی درخواست کے بعد ایک شاہی فرمان میں کہا ہے کہ یمن کے بحران کے حل میں شامل تمام سیاسی قوتوں بالخصوص صدر عبد ربہ منصور ھادی اور ان کے ساتھیوں کی ریاض منتقلی کے انتظامات مکمل کیے جائیں۔ سعودی عرب کے اس فیصلے کوخلیجی تعاون کونسل کے دوسرے رکن ملکوں کی طرف سے بھی سراہا گیا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز یمنی صدر عبد ربہ منصور ھادی کی جانب سے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو ایک پیغام بھیجا گیا تھا جس میں ان سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ یمن میں جاری مذاکرات سعودی عرب میں جاری رکھنے کی اجازت فراہم کریں۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے یمنی صدر کی درخواست منظور کر لی۔

ذرائع کے مطابق یمنی صدر کا کہنا تھا کہ ان کے ملک میں اہل تشیع مسلک کے حوثی شدت پسندوں کی مسلح بغاوت کے بعد ملک کے کسی بھی مقام پر مفاہمتی مذاکرات آگے بڑھانا مشکل ہو رہا ہے۔ بالخصوص یمن کے دارالحکومت صنعاء پر حوثیوں کے قبضے کے بعد سیاسی قوتوں کی جانب سے مذاکراتی عمل میں حصہ لینے میں اس لیے کوئی دلچسپی نہیں لی جا رہی کہ انہیں سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ سعودی عرب سمیت تمام خلیجی ممالک یمن بحران کے حل کے سلسلے میں ہونے والی بات چیت کو سعودی عرب کی سرزمین سے آگے بڑھانے میں مدد فراہم کریں گے۔

خیال رہے کہ یمن میں دو ماہ قبل برپا ہونے والے حوثی انقلاب کے بعد صدر عبد ربہ منصور ھادی پہلے مستعفی ہوگئے تھے تاہم بعد ازاں انہوں نے اپنا استعفیٰ واپس لیتے ہوئے جنوبی یمن کے عدن شہر کو ملک کا عبوری دارالحکومت قرار دیا ہے۔