.

یمن: القاعدہ کا فوجی اڈے پر حملہ، چار ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے جنوبی علاقے میں القاعدہ نے سرکاری فوج کے ایک اڈے پر حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں دو جنگجو اور دو فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔

یمنی حکام اور مقامی ذرائع کے مطابق القاعدہ کے جنگجوؤں نے جنوبی صوبے ابین کے شہر محفد میں سوموار کی صبح فوج کے ایک بیس پر حملہ کیا تھا جس کے بعد مقامی عوامی کمیٹیوں کے درجنوں مسلح افراد بھی فوج کی مدد کو آ گئے اور جھڑپ میں چار افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ یمنی فوج اور مقامی مسلح قبائلیوں نے 2013ء میں القاعدہ کے جنگجوؤں کو صوبے ابین سے نکال باہر کیا تھا۔ اس کے بعد القاعدہ کا اس صوبے میں سرکاری فوج پر یہ پہلا بڑا حملہ ہے۔

اس کے پڑوس میں واقع صوبے شبوۃ میں القاعدہ کے جنگجوؤں نے گذشتہ ماہ سرکاری فوج کے ساتھ لڑائی کے بعد انیسویں انفینٹری بریگیڈ کے ایک کیمپ پر قبضہ کر لیا تھا۔اس لڑائی میں آٹھ فوجی اور القاعدہ کے چار جنگجو مارے گئے تھے۔ تاہم القاعدہ کے جنگجوؤں نے بعد میں کیمپ کا کنٹرول مقامی قبائل کے حوالے کردیا تھا لیکن ہتھیار واپس نہیں کیے تھے۔

اس وقت یمن کے دارالحکومت صنعا میں حوثی شیعہ باغیوں نے قبضہ کررکھا ہے اور وہ صنعا سمیت ملک کے شمالی صوبوں میں اپنی حکومت چلا رہے ہیں جبکہ صدر عبد ربہ منصور ہادی صنعا سے جان بچا کر جنوبی شہر عدن پہنچ چکے ہیں اور وہ وہاں سے اپنی حکومت چلا رہے ہیں لیکن ان کی عمل داری یمن کے جنوبی اور وسطی صوبوں تک محدود ہے۔انھیں سنی قبائلیوں اور جنوب سے تعلق رکھنے والے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی حمایت حاصل ہے جبکہ دو صوبوں شبوۃ اور حضر موت میں القاعدہ کا اثر ورسوخ ہے۔