.

اسلامو فوبیا نے داعش کو مضبوط بننے میں مدد دی:شاہ عبداللہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے کہا ہے کہ اسلامو فوبیا نے دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کو مضبوط بنانے میں مدد دی ہے۔

وہ منگل کے روز فرانس کے شہر اسٹراسبرگ میں یورپی پارلیمان میں تقریر کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ''انتہا پسندوں نے اپنی عمل داری قائم کرنے کے لیے (ملکوں میں جاری) تنازعات سے فائدہ اٹھایا ہے لیکن ان کا ملک اس انتہا پسند گروپ کے مقابلے میں اپنے عوام اور عقیدے کا دفاع کرے گا''۔

انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحاد بڑی اہمیت کا حامل ہے۔اس وقت داعش سے نہ صرف عراق اور شام کو خطرہ لاحق ہے بلکہ اس سے مشرق وسطیٰ اور پوری دنیا کو خطرات لاحق ہیں۔

شاہ عبداللہ نے عیسائی اقلیت پر داعش کے حملوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ''خطے میں اقلیتوں پر حملے انسانیت کے خلاف جُرم ہیں''۔وہ داعش کے عیسائی اقلیت سے تعلق رکھنے والے افراد پر حالیہ حملوں کا حوالہ دے رہے تھے۔داعش کے جنگجوؤں نے گذشتہ ماہ لیبیا میں اکیس مصری قبطی عیسائیوں کو اغوا کے بعد سفاکانہ انداز میں قتل کردیا تھا اور شام سے انھوں نے قدیم عیسائی اقلیت آشوری سے تعلق رکھنے والے نوے سے زیادہ افراد کو اغوا کررکھا ہے۔ان کے بارے میں کوئی اتا پتا نہیں ہے کہ وہ کس حال میں ہیں۔

اردنی شاہ نے اپنی تقریر میں اسرائیلی ،فلسطینی تنازعے پر بھی اظہار خیال کیا ہے اور کہا کہ اسرائیل نے متعدد مواقع پر امن عمل کی خلاف ورزی کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے اس دیرینہ تنازعے کو طے کیا جانا چاہیے کیونکہ اس سے نفرت کو مہمیز مل رہی ہے۔ان کے بہ قول فلسطینی تنازعے کے سیاسی حل کا کوئی متبادل نہیں ہے۔

شام میں جاری خانہ جنگی پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اردن نے قریباً چودہ لاکھ شامی مہاجرین کو خوش آمدید کہا ہے اور وہ اس وقت شامی مہاجرین کی میزبانی کرنے والا تیسرا بڑا ملک بن چکا ہے۔