.

اھواز میں 17 غیرملکی خفیہ اداروں کی موجودگی کا ایرانی دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کے ملٹری سیکرٹری اور پاسداران انقلاب کے سابق سربراہ جنرل یحیٰ رحیم صفوی نے الزام عاید کیا ہے کہ ملک کےجنوب میں واقع عرب اکثریتی صوبہ خوزستان [اھواز] میں عرب اور دوسرے ممالک کے سترہ انٹیلی جنس ادارے سرگرم ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جنرل صفوی نے تہران میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی صوبہ اھواز میں سرگرم غیرملکی خفیہ ادارے علاحدگی پسند گروپوں کی معاونت کررہے ہیں۔ اس کےعلاوہ بعض غیر ملکی خفیہ ادارے صوبے میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کی سازشیں جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ صوبے پرایرانی حکومت کی گرفت کمزور کر کے علاحدگی کی تحریک کو زیادہ طاقت ور بنایا جاسکے۔

ایرانی جنرل نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگرصوبہ اہواز میں امن وامان برقرار نہ رکھا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ شام اور عراق میں جاری فرقہ وارانہ لڑائی اہواز میں بھی منتقل ہوسکتی ہے جو ایران کی قومی سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ ثابت ہوگی۔

خیال رہے کہ پچھلے سال ستمبر میں ایران کے ایک سرکردہ شیعہ عالم دین اور جامع تہران کے خطیب احمد رضا حاجتی نے انکشاف کیا تھا کہ صوبہ اہواز میں 35 غیرملکی انٹیلی جنس ادارے سرگرم عمل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ غیرملکی خفیہ اداروں کے اہواز کے نوجوانوں کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے 2 لاکھ ٹیلیفون ٹیپ کیے ہیں۔

الزامات آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف

دوسری جانب اھواز کے ایک مقامی سماجی کارکن اور اھواز ڈیموکریٹک پارٹی کےسیکرٹری جنرل عدنان سلمان نے جنرل صفوی کا بیان مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تہران خود پڑوسی ممالک میں کھلے عام مداخلت کا مرتکب ہو رہا ہے۔ صوبہ اھواز میں غیرملکی خفیہ اداروں کی موجودگی کا الزام عاید کر کے عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

لندن میں جلا وطنی کی زندگی گذارنے والے عدنان سلمان کا کہنا ہے کہ جنرل صفوی کا یہ تاثر درست ہے کہ صوبہ اھواز میں بدامنی پھیلنے سے ملک میں فرقہ واریت کی ایک نئی آگ بھڑک سکتی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ خطے میں فرقہ واریت کا منبع ایران کی بر سراقتدار اشرافیہ ہے جس نے عرب باشندوں کے بنیادی حقوق تک سلب کر رکھے ہیں۔ اگر شہری اپنے حقوق کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں تو اسے فرقہ واریت قرار دے کر طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

عدنان سلمان کا کہنا تھا کہ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ ایران پڑوسی ملکوں بالخصوص عراق، شام، لبنان، یمن اور خلیجی ممالک میں نہ صرف مداخلت کررہا ہے بلکہ تہران کے کئی عسکری گروپ ان ملکوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں براہ راست ملوث ہیں۔