.

داعش کے خلاف لڑائی میں پہلی مغربی عورت کی ہلاکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی عراق و شام (داعش) کے خلاف شام میں لڑتے ہوئے ایک جرمن دوشیزہ ہلاک ہوگئی ہے اور وہ داعش سے جنگ میں ماری گئی پہلی مغربی خاتون شہری ہے۔

برطانوی اخبار گارجین نے سوموار کو ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں ترک کردوں کے کمیونسٹ گروپ مارکسسٹ لینن کمیونسٹ پارٹی کے حوالے سے جرمن شہری اِوانا ہوفمین کے بارے میں اطلاع دی گئی ہے کہ وہ گذشتہ ہفتے کے روز کرد فورسز کے شانہ بشانہ داعش کے جنگجوؤں کے خلاف لڑتے ہوئے ماری گئی تھی۔

انیس سالہ آوانا ہوفمین المعروف آواسین تیکوسین گنز شام کے علاقے تل تامیر میں عوامی تحفظ یونٹ (وائی پی جی) اور داعش کے جنگجوؤں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے دوران ہلاک ہوئی تھی۔وہ داعش کے خلاف لڑائی کے لیے چھے ماہ قبل شام آئی تھی۔

اس نے یوٹیوب پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں کہا تھا کہ اس کی پیدائش کا سال 1995ء ہے۔وہ بظاہر افریقی نژاد لگ رہی تھی۔سوموار کو پوسٹ کی گئی ٹویٹس کے مطابق اس نوجوان خاتون کے لیے 14 مارچ کو ڈیوسبرگ میں دعائیہ تقریب منعقد ہوگی۔گارجین کی رپورٹ کے مطابق جرمن وزارت خارجہ نے اپنی ایک شہری خاتون کی شام میں ہلاکت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔