.

اسرائیل کی عرب اقلیت تاریخ کے چوراہے پر!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل میں سترہ مارچ کو ہونے والے وسط مدتی پارلیمانی انتخابات میں ملک کی عرب اقلیت پہلی بارایک ہی جھنڈے تلے ان انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔ اسرائیل کی ساٹھ سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب عرب کمیونٹی کی نمائندہ چار جماعتوں نے ایک ’’الائنس‘‘ قائم کرتے ہوئے اسرائیلی کنیسٹ[پارلیمنٹ] کے انتخابات میں حصہ لینے کا عزم بالجزم کیا ہے۔ عرب جماعتوں کے سیاسی اتحاد سے ان کی قوت کو نیا خون مل سکتا ہے اور وہ ماضی کی نسبت زیادہ سیٹیں حاصل کر کے اسرائیلی پارلیمنٹ میں اپنی نمائندگی ثابت کرسکتے ہیں۔

غیرملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق اس وقت اسرائیل میں تین اہم سیاسی اتحاد قائم ہیں۔ عرب اقلیت کی نمائندہ اتحاد کو ان میں تیسرا درجہ حاصل ہے۔ تاہم پہلی بار عرب جماعتوں کا اتحاد پارلیمنٹ میں اسرائیلی، صہیونی بالادستی کو چیلنج کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

عرب اقلیت کے نمائندہ اتحاد نے کنیسٹ کے انتخابات میں متوقع کامیابی حاصل کی تو اسرائیل کی دائیں بازو کی انتہا پسند اور بائیں بازو کی لبرل جماعتوں کی اجارہ داری کو سخت خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

چونکہ مجموعی طورپر اسرائیل کی عرب اقلیت کل آٹھ ملین آبادی کا صرف 20 فی صد ہے لیکن اس کے باوجود عربوں کو اسرائیل میں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔ عرب سیاسی گروپوں کے درمیان سیاسی اتحاد دراصل اسرائیل کی عربوں کے خلاف جاری نسل پرستانہ اور امتیازی پالیسیوں کا ایک فطری رد عمل ہے۔ اسرائیلی حکومتیں کھلے عام عرب شہریوں کے بنیادی حقوق کا استحصال کرتی رہی ہیں۔ جبکہ یہودیوں کو غیر معمولی مراعات اور حقوق حاصل ہیں۔

عرب اقلیت کواس بار اسرائیلی پارلیمنٹ میں اپنے توانا آواز کی توقع ہے۔ 24 سالہ میرنا برانسی کہتی ہیں کہ ’’ہم نے آج کے دن کا عشروں سے انتظار کیا ہے۔ اب ہمیں اتھارٹی حاصل ہوگئی ہے اور ہم واضح فرق کے ساتھ کامیابی حاصل کریں گے۔"

تاہم عرب شہریوں کی جانب سے اسرائیل کی امتیازی پالیسیوں کی شکایت بھی زبان زد عام ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ تعلیم، صحت، آباد کاری اور دیگر بنیادی حقوق میں عرب شہریوں کو امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل میں بسنے والے عرب باشندوں کی نصف تعداد غربت کی لکیرسے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔

ام الفحم کی 46 سالہ ختام محامید کا کہنا ہے کہ "میں نے ماضی میں کبھی اسرائیلی انتخابات میں ووٹ نہیں ڈالا لیکن اب کی بار میں بھی اپنا ووٹ دوں گی۔" اس کا مزید کہنا ہے کہ عربوں کے لیے اسرائیل میں کوئی زندگی نہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ ووٹ ڈالر اپنے حقوق حاصل کرسکیں۔

’’اتحاد میں طاقت ہے‘‘

اسرائیل کی عرب اقلیت کی نمائندہ جماعتوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات ماضی میں اسرائیلی پارلیمنٹ کا حصہ بنتی رہی ہیں لیکن انہوں نے حکومت میں شامل ہونے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ اب چونکہ عرب جماعتوں نے خود کو متحد کر کے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس لیے غالب امکان ہے کہ متوقع کامیابی کے بعد عرب اتحاد اسرائیلی حکومت سازی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

عرب جماعتوں کو توقع ہے کہ وہ 120 کے ایوان میں 11 سے 13 نشستیں حاصل کرسکتے ہیں۔ جبکہ بعض تو 15 سیٹوں کی توقع بھی لگائے ہوئے ہیں۔ اگر عرب اتحاد 15 سییٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے تو کنیسٹ میں ان کی آواز زیادہ موثر ثابت ہوسکتی ہے۔ یوں عرب اقلیت پارلیمنٹ کی تیسری بڑی سیاسی طاقت بن سکتے ہیں۔

عرب سیاسی جماعتوں کے اتحاد کے سربراہ ایمن عودہ کا کہنا ہے کہ کامیابی کے بعد وہ دیکھیں گے کہ آیا حکومت سازی میں کس جماعت کی مدد کرسکتے ہیں تاہم ان کا خیال ہے کہ وہ نسبتا اعتدال پسند رہ نما ’’اسحاق ہرٹسوگ‘‘ کی ’’صہیونی فیڈریشن‘‘ کی حمایت کرسکتے ہیں۔ اگرچہ یہ جماعت ابھی تک موجودہ حکمراں جماعت ’’لیکوڈ‘‘ کے ساتھ شریک اقتدار ہے۔

عرب سیاسی جماعتوں کی جانب سے حکومت سازی میں کسی اسرائیلی لیڈر یا جماعت کی حمایت کو فلسطین۔ اسرائیل تنازع کے حل کے حوالے سے بھی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ ماضی میں بھی ایک آدھ بار ایسا ہوا ہے۔ سنہ 1993ء میں اسرائیلی کنیسٹ میں عرب جماعتوں کے ارکان نے اس وقت کے وزیراعظم آنجہانی اسحاق رابین کی حمایت کی تھی۔ رابین نے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ اوسلو معاہدہ کرکے قیام امن کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا تھا۔

ایمن عودہ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس سنہ 1990ء کی وہ مثال موجود ہے جب عرب ارکان نے اسحاق رابین کی حمایت کی تھی۔ اب بھی اس طرح کا کوئی راستہ نکالا جاسکتا ہے۔