.

شام کا 85 فی صد حصہ باغیوں سے آزاد کرا لیا: پاسداران انقلاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی مسلح افواج پاسداران انقلاب کے ایک سینیرعہدیدار میجرجنرل حسین ھمدانی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی عسکری قیادت کے تعاون سے شام کا پچاسی فی صد علاقہ باغیوں کے قبضے سے چھڑا لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ باغیوں سے واپس لیے گئے علاقوں پر اپوزیشن فورسز نے قبضہ کررکھا تھا اور قریب تھا کہ صدر بشارالاسد باغیوں کے سامنے شکست قبول کرلیتے لیکن ایران نے مدد کر کے شام کو بچا لیا۔

جنرل ہمدانی کا کہنا تھا کہ خطے میں اس وقت دو الگ الگ جنگی محور ہیں۔ ایک کی قیادت امریکا، یورپ اور عرب ممالک کررہے ہیں جبکہ دوسرے محور میں ایران ہے جو ان جابر قوتوں کے خلاف نبرد آزما ہے۔

انہوں نے الزام عاید کیا کہ امریکا عراق کو تین حصوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے۔ اسی طرح شام کو دو حصوں میں اور ایران کو پانچ حصوں میں تقسیم کرنے کی گھنائونی سازش کی جا رہی ہے۔

شام میں نئے عسکری گروپ کا قیام

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب سے وابستہ میجر جنرل ہمدانی نے حال ہی میں انکشاف کیا تھا کہ ان کا ملک شام میں علوی اہل تشیع، سنی، عیسائی اور اسماعیلی فرقوں پر مشتمل’’کشاب‘‘ نامی ایک نیا گروپ تشکیل دے رہا ہے جو شام میں جاری بغاوت کی روک تھام میں معاونت کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم عقائد کی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو عسکری ملیشیا میں بھرتی کریں گے اور ان کی عسکری تربیت پاسداران انقلاب کے زیرانتظام پاسیج ملیشیا کے ذریعے کی جائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں جنرل ہمدانی کا کہنا تھا کہ شام اور لبنان میں کامیاب عسکری کارروائیوں کے بعد پاسیج فورس اب عراق میں بھی سرگرم ہے۔ قبل ازیں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے 42 بریگیڈ اور138 بٹالین فوج شام میں صدر بشارالاسد کےدفاع میں لڑ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شام میں صدر اسد کےدفاع میں لڑنے والوں میں علوی، شیعہ سنی، لبنانی حزب اللہ اور شامی حزب اللہ کے جنگجو بھی شامل ہیں۔

حال ہی میں شام میں لڑائی کے دوران پاسداران انقلاب کے زیرانتظام پاسیج ملیشیا سے تعلق رکھنے والے16 ایرانی اور افغان جنگجوئوں کی لاشیں ایران منتقل کی گئی تھیں۔ یہ تمام جنگجو جنوبی شام میں درعا کےمقام پر باغیوں سے جھڑپوں میں مارے گئے تھے۔