.

عراق میں ایران کا کردار موافقانہ نہیں:مائیکل ہیڈن

داعش کے خلاف جنگ میں ایران کے مقاصد امریکا سے مختلف ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے مرکزی خفیہ ادارے (سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے) کے سابق سربراہ مائیکل ہیڈن نے ایران کے جنگ زدہ عراق میں بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ایران کے کردار سے ''آسودہ'' نہیں ہیں۔

مائیکل ہیڈن نے عراق کے شمالی شہر تکریت میں دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے خلاف عراقی فورسز کے ساتھ مل کر ایران کے خصوصی دستوں کے آپریشن کے حوالے سے خاص طور پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ کارروائی دراصل اہل تشیع کی سنی آبادی کے شہر پر چڑھائی نظر آرہی ہے۔

انھوں نے نیو امریکا فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام سراغرسانی کے بین الاقوامی تبادلے سے متعلق گول میز کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ''ان کی تشویش کا ثبوت یہ ہے جب تکریت پر ان فورسز کا دوبارہ قبضہ ہوجائے گا تو پھر ملیشیائیں مقامی آبادی کے ساتھ کیا کریں گی''۔

انھوں نے کہا کہ امریکا کو ایران کے ساتھ سراغرسانی کا تبادلہ بالکل بھی نہیں کرنا چاہیے باوجود اس امر کے کہ دونوں داعش کا خاتمہ چاہتے ہیں۔انھوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا حتمی مقصد کچھ اور ہے۔ہم عراق میں تمام بڑے مذہبی اور نسلی دھڑوں اور گروپوں پر مشتمل ایسی حکومت چاہتے ہیں جو اقلیتوں کے حق کا تحفظ کرے لیکن ایران ایسا نہیں چاہتا۔

مسٹر ہیڈن کا مزید کہنا تھا:''مجھ پر یہ بات عیاں ہے، نئی عراقی ریاست میں ایرانی پالیسی شیعہ کی بالادستی پر مبنی ہے۔اس سے سنی اپوزیشن کو تقویت ملے گی اور اس سے داعش کو بھی اپنی تحریک کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی''۔

واضح رہے کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی تکریت کی بازیابی کے لیے آپریشن میں شہریوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کررہی ہیں۔اس آپریشن میں عراقی سکیورٹی فورسز ،ایران کے خصوصی دستے ،شیعہ ملیشیاؤں اور سنی قبائل رضاکاروں سمیت قریباً تیس ہزار اہلکار اور جنگجو حصہ لے رہے ہیں۔