.

'برطانوی لڑکیوں کو دہشت گردی کے مقدمے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا'

لندن پولیس نے واپسی کی صورت میں یقین دہانی کروا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی پولیس کے اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ برطانیہ سے دولت اسلامیہ عراق وشام [داعش] میں شمولیت کے لئے سفر کرنے والی تین لڑکیوں کو وطن واپسی کا فیصلہ کرنے پر دہشت گردی کے الزامات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

لندن میٹروپولیٹن پولیس کے کمشنر برنارڈ ہوگن-ہوے نے داخلہ امور کمیٹی کی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے بتایا ہے کہ 15 سالہ شمیمہ بیگم، 16 سالہ کردیزہ سلطانہ اور 15 سالہ امیرہ عباسی اپنے خاندانوں کے پاس واپس آسکتی ہیں۔

ہوگن ہوے کے خطاب کے دوران ان کے ہمراہ انسداد دہشت گردی تنظیم کے سربراہ مارک رولی بھی موجود تھے۔ اس واقعہ سے متعلق رولی کا کہنا تھا کہ "ہمارے پاس ابھی اس بات کے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ یہ لڑکیاں کسی دہشت گرد کارروائی میں ملوث ہیں۔ اگر وہ کسی اور کارروائی میں حصہ نہیں لیتی ہیں تو انہیں گھر واپس آنے میں کوئی خطرہ محسوس نہیں ہونا چاہئیے ہے۔"

رولی کا کہنا تھا کہ یہ تینوں لڑکیاں شمالی عراق اور شام میں کلاشنکوف پکڑ کر پھرنے والے افراد سے بہت مختلف صورتحال میں ہیں۔ روگی اور ہوگن ہوے دونوں کا اس بات پر اتفاق تھا کہ اگر یہ لڑکیاں واپس آنے کا فیصلہ کرتی ہیں تو انہیں ان کے خاندانوں کے پاس جانے دیا جائے گا۔

اس سے پہلے یہ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ یہ تینوں لڑکیاں شام میں داعش کے علاقے میں داخل ہوچکی ہیں۔ ان لڑکیوں نے پچھلے ماہ گیٹویک سے استنبول کی پرواز پر ترکی آئی تھیں جس کے بعد انہیں ان کے خاندانوں تک بحفاظت واپس پہنچانے کے لئے ایک بین الاقوامی تفتیش کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔