.

ایرانی انقلاب کی برآمد نئے باب میں داخل:جنرل جعفری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی پاسداران انقلاب کور کے کمانڈر میجر جنرل محمد علی جعفری نے کہا ہے کہ ''ان کا ملک انقلاب کو برآمد کرنے کے ایک نئے باب میں داخل ہوگیا ہے''۔

ایران کی ایسنا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جنرل جعفری نے کہا ہے کہ ''اسلامی انقلاب اچھی رفتار کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور انقلاب کو برآمد کرنے کی مثالیں بڑھ رہی ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''آج نہ صرف فلسطین اور لبنان اسلامی جمہوریہ کے مؤثر کردار کو تسلیم کرتے ہیں بلکہ شام اور عراق کے لوگ بھی اس کو تسلیم کررہے ہیں اور وہ ایرانی قوم کو سراہتے ہیں''۔

وہ شام اور عراق میں سخت گیر سنی جنگجو گروپ دولت اسلامی (داعش) کے خلاف فوجی کارروائیوں کا حوالہ دے رہے تھے جہاں پاسداران انقلاب ایران نے بغداد اور دمشق حکومتوں کی حمایت میں اپنے مشیر تعینات کررکھے ہیں۔

انھوں نے ایران کی شورائے نگہبان کے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ''انقلاب کو برآمد کرنے کے مرحلے کا اب ایک نیا باب کھل گیا ہے''۔انھوں نے اس ضمن میں لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کا ذکر کیا جس کو ایران کی بھرپور عسکری اور سیاسی حمایت حاصل ہے۔

انھوں نے کہا کہ حزب اللہ اور اس کی جانب سے دنیا کی جدید ہتھیاروں سے مسلح بہترین آرمی کی مزاحمت اسلامی انقلاب کا ایک بہت بڑا معجزہ ہے۔یہ اسلامی نظام کا سب سے بڑا اثر ہے۔

محمد علی جعفری سے قبل ایران کی القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی بھی اسی قسم کے خیالات کا اظہار کرچکے ہیں۔وہ اس وقت عراق میں داعش کے خلاف جنگ میں اگلے محاذ پر موجود ہیں۔

انھوں نے 11 فروری کو کہا تھا کہ ''آج ہم اسلامی انقلاب کو پورے خطے میں برآمد ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔بحرین سے عراق اور شام سے یمن اور شمالی افریقہ تک انقلاب برآمد ہورہا ہے''۔

تاہم خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے کردار پر امریکا اور سعودی عرب تشویش کا اًظہار کررہے ہیں۔امریکا کے مرکزی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سابق سربراہ مائیکل ہیڈن نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ ایران کے عراق کے شمالی شہر تکریت کو آزاد کرانے کے لیے آپریشن میں کردار سے مطمئن نہیں ہیں۔

مائیکل ہیڈن نے داعش کے خلاف عراقی فورسز کے ساتھ مل کر ایران کے خصوصی دستوں کے آپریشن کے حوالے سے خاص طور پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ کارروائی دراصل اہل تشیع کی سنی آبادی کے شہر پر چڑھائی نظر آرہی ہے۔

انھوں نے سراغرسانی کے بین الاقوامی تبادلے سے متعلق ایک گول میز کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو ایران کے ساتھ سراغرسانی کا تبادلہ بالکل بھی نہیں کرنا چاہیے باوجود اس امر کے کہ دونوں داعش کا خاتمہ چاہتے ہیں۔انھوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا حتمی مقصد کچھ اور ہے۔ہم عراق میں تمام بڑے مذہبی اور نسلی دھڑوں اور گروپوں پر مشتمل ایسی حکومت چاہتے ہیں جو اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرے لیکن ایران ایسا نہیں چاہتا ہے۔

مسٹر ہیڈن کا مزید کہنا تھا:''مجھ پر یہ بات عیاں ہے، نئی عراقی ریاست میں ایرانی پالیسی شیعہ کی بالادستی پر مبنی ہے۔اس سے سنی اپوزیشن کو تقویت ملے گی اور اس سے داعش کو بھی اپنی تحریک کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی''۔واضح رہے کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی تکریت کی بازیابی کے لیے آپریشن میں شہریوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کرچکی ہیں۔