.

تنہائی پسند اوباما عالمی رہ نمائوں سے ’’فرینڈشپ‘‘ میں ناکام!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہر ملک کا سربراہ حکومت عالمی رہ نمائوں سے تعلقات کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنانے، مخالفین کی تعداد کم کرنے اور دوستوں کی صف میں اضافہ کرنے پر نہ صرف فخرمحسوس کرتا ہے بلکہ اسے ملک کی اہم ترین سفارتی ضرورت قرار دیتے ہوئے عالمی رہ نمائوں سے تعلقات مضبوط بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ امریکا کے صدر باراک اوباما نے دو بار کی مدت صدارت میں کئی اہم کامیابیاں اپنے نام کی ہوں گی مگرعالمی رہ نمائوں سے دوستی کے باب میں وہ ناکام رہے ہیں۔

اخبار ’’نیویارک ٹائمز‘‘ نے صدر اوباما کے عالمی رہ نمائوں سے تعلقات کے حوالے سے ایک رپورٹ میں روشنی ڈالی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ صدر اوباما کی میل ملاقاتیں، دوسرے ملکوں کے دورے اپنی جگہ مگروہ اپنے پیش رو صدور کے برعکس عالمی رہ نمائوں کے دل جیتنے میں ناکام رہے ہیں۔

اخبار لکھتا ہے کہ عالمی رہنمائوں سے تعلقات کے حوالے سے کسی بھی سربراہ حکومت کو ’’کاروباری ذہن‘‘ کے ساتھ ڈیلنگ کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ صدر اوباما ’تنہائی پسند‘ لیڈر ہیں۔ وہ عالمی رہ نمائوں سےملاقاتوں کے دوران دوسروں اس طرح توجہ نہیں دےپاتے جیسا کہ انہیں دینی چاہیے۔

اوباما کے برعکس سابق صدور میں یہ خوبی تھی کہ وہ دوسرے ملکوں کے ساتھ کشیدہ تعلقات کو مزید بگاڑنے کے بجائے اُنہیں بنانے کی مساعی کرتے۔ اس طرح کئی مخالف ممالک دوست بنے یا کم از کم تعلقات کو مزید بگاڑ سے بچالیا۔

سابق صدر جارج ڈبلیو بش نے عالمی رہ نمائوں سے فرینڈشپ میں کافی حد تک کامیاب رہے۔ عالمی رہ نمائوں سے ان کی دوستی سنہ 2008ء میں منصب صدارت سے سبکدوشی کے بعد بھی قائم و دائم رہی۔

ان کے پیش رو بل کلنٹن بھی ایک ملنسار صدر رہے۔ عالمی رہ نمائوں کے دل جیتنا ان کے بائیں ہاتھ کا فن تھا اور وہ بھی عالمی رہ نمائوں سے اپنی دوستی کا رشتہ بڑھانے اور اسے مضبوط کرنے میں کامیاب ٹھہرے۔

سابق صدر رونلڈ ریگن نے برطانوی وزیراعظم مارگریٹ تھیچر کے ساتھ اس حد تک گہرے مراسم پیدا کرلیے کہ انہوں نے نہ صرف برطانیہ کے ساتھ مضبوط معاشی تعلقات قائم کیے بلکہ لندن کی امریکا بارے پالیسی بدل ڈالی۔

سابق امریکی صدر فرانکلین روز ویلٹ اور برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل کے درمیان دورسری عالمی جنگ میں جرمنی کے نازیوں کی سرکوبی کے معاملے میں کشیدگی پیدا ہوئی۔ بالآخر دونوں رہ نمائوں نے ماضی کی تلخیوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن کردیا۔ امریکی ساحل پربیرل ھاربر حملوں کے بعد چرچل اور روز ولٹ کے درمیان تلخی بہت بڑھ گئی تھی۔ برطانوی وزیراعظم امریکی صدر کی ناراضی دور کرنے کے لیے کئی ہفتے وائٹ ہائوس کے مہمان بنے رہے۔

صدر اوباما کی ناکام دوستی

امریکا کے دورے پرآئےغیرملکی سربراہان مملکت کے دل جیتنے یا بیرون ملک دوروں کے دوران عالمی رہ نمائوں سے تعلقات بڑھانے میں صدر اوباما کا شمار ناکام صدور میں ہوگا۔ چین کے صدر شی جین بینگ دونوں ملکوں کے درمیان سرد جنگ ختم کرنے کے لیے دو روز تک لاس اینجلس میں مقیم رہے لیکن صدر اوباما سے ان کی ملاقات بے ثمر ثابت ہوئی۔

باراک اوبانا نے جرمن چانسلر انگیلا مریکل سے کسی حد تک تعلقات بہتر کیے مگر امریکی خفیہ اداروں کی جانب سےمیریکل کےجاسوسی اسکینڈل کے بعد بنے بنائے تعلقات پھر سے خراب ہوگئے۔

روسی ہم منصب ولادی میر پوتن کے ساتھ بھی اوباما کی متعدد ملاقاتیں ہوئیں لیکن سب بے سود ثابت ہوئیں۔ جب روسی ٹینکوں نے یوکرائن کی سرحدیں عبور کرکے جزیرے پرقبضہ کرلیا تب اوباما اور پوتن کے درمیان ناراضی اور بھی بڑھ گئی جسے صدر اوباما ختم کرنے میں ناکام رہے۔

عراق کے سابق وزیراعظم نوری المالکی کے ساتھ اوباما کے تعلقات کبھی اچھے نہیں رہے۔ حالانکہ ان کے پیش رو جارج ڈبلیو بش المالکی کے ساتھ براہ راست ملاقاتوں کے علاوہ ٹیلیفون پر رابطے میں رہے جبکہ اوباما کی خشک مزاجی کے باعث ٹیلیفونک رابطے تک منقطع ہوگئے تھے۔