.

ترکی: داعش میں شمولیت کے خواہاں 16 انڈونیشی گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں حکام نے سولہ انڈونیشی شہریوں کو سرحد عبور کرکے شام جانے کی کوشش کے دوران گرفتار کر لیا ہے۔ان میں گیارہ بچے ،چار خواتین اور ایک مرد ہے۔

ترک حکام نے بتایا ہے کہ ان انڈونیشی شہریوں کو ترکی کے سرحدی قصبے غازیان تیپ سے گرفتار کیا گیا ہے۔وہ شام پہنچ کر دولت اسلامی (داعش) میں شامل ہونا چاہتے تھے۔تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا ہے کہ ان کی گرفتاری کب عمل میں آئی تھی۔

انڈونیشیا کے سکیورٹی کے وزیر تیدجو ایدھی پردیجتنو نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ''ہم ابھی تحقیقات کررہے ہیں لیکن یہ بات واضح ہے کہ یہ لوگ اسلامی شریعت کے مطابق بہتر زندگی گزارنے کے لیے داعش میں شامل ہونا چاہتے تھے''۔

انڈونیشی وزیرخارجہ رتنو مرشدی کا کہنا ہے کہ ان افراد کی گرفتاری کے بعد ایک ٹیم ترکی بھیجی جارہی ہے۔قبل ازیں انڈونیشی حکام نے ان سولہ افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاع دی تھی اور بتایا تھا کہ وہ ایک ٹور گروپ کے ساتھ ترکی گئے تھے۔ان کے بارے میں یہ شُبہ ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ سرحد عبور کرکے شام چلے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ غیرملکیوں کی ایک بڑی تعداد ترکی کے راستے شام پہنچ رہی ہے اور داعش یا دوسرے جنگجو گروپوں میں شامل ہورہی ہے۔ان غیرملکیوں کے بارے میں اس خدشے کا اظہار کیا جارہا ہے کہ وہ اپنے آبائی ممالک کو لوٹنے کے بعد حملے کرسکتے ہیں اور تخریبی کارروائیوں میں ملوّث ہو سکتے ہیں۔

حال ہی میں تین برطانوی لڑکیاں ترکی سے سرحد عبور کر کے شام پہنچی تھیں اور وہ داعش میں شامل ہوچکی ہیں۔برطانیہ میں ان لڑکیوں کے شام پہنچنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔

انڈونیشیا میں بھی شہریوں کے عراق اورشام جانے کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے اور محکمہ انسداد دہشت گردی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اس وقت پانچ سو سے زیادہ انڈونیشی داعش کی صفوں میں شامل ہو کر عراق اور شام میں لڑرہے ہیں۔انڈونیشی حکومت نے داعش کے جہادیوں کی حمایت پر پہلے ہی پابندی عاید کررکھی ہے لیکن ماہرین حکام سے یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ جہادیوں کو خانہ جنگی کا شکار ممالک میں جانے سے روکنے کے لیے مزید اقدامات کریں۔

انڈونیشیا خود بھی ایک عشرے تک دہشت گردوں کے حملوں کا شکار رہا ہے۔دنیا میں مسلمانوں کی سب سےزیادہ آبادی کے حامل اس ملک میں اسلامی جنگجو مغربی اہداف کو اپنے حملوں میں نشانہ بناتے رہے ہیں۔انھوں نے سنہ 2002ء میں سیاحتی مقام بالی میں بم دھماکے کیے تھے جن میں دو سو دو افراد ہلاک ہوگئے تھے لیکن انڈونیشی حکومت نے اب کافی حد تک دہشت گردوں کی سرگرمیوں پر قابو پالیا ہے اور ان کے نیٹ ورک کو کمزور کردیا ہے۔