.

نیتن یاھو پارلیمانی انتخابات میں شکست سے خائف!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل میں جوں جوں وسط مدتی پارلیمانی انتخابات کا وقت قریب آ رہا ہے حکمراں جماعت 'لیکوڈ' اور وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی بے چینی اورممکنہ شکست کے خوف میں اضافہ ہو رہا ہے۔

غیرملکی خبررساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نیتن یاھو کو اپنے مضبوط حریف اوراعتدال پسند اتحاد ہاتھوں شکست کا خطرہ ہے اور وہ اس کا اظہار کرتے ہوئے ممکنہ شکست سے بچنے کی پوری کوشش کررہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کے روز وزیراعظم نیتن یاھو نے اپنے سیاسی حریف کے خلاف مضبوط میڈیا مہم چلانے کا اعلان کیا تاکہ ان کے ہاتھوں انتخابی میدان میں شکست فاش سے بچنے کا آخری حربہ استعمال کیا جاسکے۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ اوردیگر اداروں کی جانب سے جاری کیے گئے رائے عامہ کے جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نیتن یاھو کو ان کے مخالف اتحاد کی جانب سے سخت دبائوکا سامنا ہے کیونکہ رائے عامہ کے جائزوں میں نیتن یاھو اور ان کے سیاسی حریفوں کی حمایت میں کوئی نمایاں فرق نہیں ہے۔ حال ہی میں وزیراعظم نے اپنے سابقہ ووٹروں کو تنبیہ کی کہ وہ اعتدال پسند گروپ کو ووٹ نہ دیں ورنہ ان کے ووٹ رائے گاں جائیں گے کیونکہ انتخابات میں جیت صرف 'لیکوڈ' پارٹی ہی کی ہوگی تاہم نیتن یاھو کی تنبیہ کا ووٹروں پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔

رائے عامہ کے جائزوں میں بتایا جا رہا ہے کہ حزب مخالف اتحاد کی انتخابات میں 24 نشستوں پر کامیابی کا امکان ہے جبکہ نیتن یاھو اور ان کی جماعت کو 120 کے ایوان میں 21 نشتیں مل سکتی ہیں۔ ان کے مخالف اتحاد کو امید ہے کہ آئندہ حکومت ان کی ہوگی کیونکہ موجودہ صدرلیبر پارٹی کے سربراہ اسحاق ہرٹرزوگ کی حمایت کرکے انہیں حکومت بنانے کی دعوت دیں گے۔

لیبرپارٹی کے اسحاق ہرٹرزوگ اور زیپی لیونی کی جماعت 'فیوچرموومنٹ' نے انتخابی اتحاد کیا ہے اور انہوں نے حکومت سازی کے لیے اپنا ایجنڈا بھی جاری کردیا ہے جس میں دونوں جماعتیں دو دو سال تک اپنا وزیراعظم مقرر کریں گی۔

اپنے حامی اخبارات 'یروشلم پوسٹ' اور 'اسرائیل ھیوم' کو انٹرویو میں نیتن یاھو نے کہا کہ جو لوگ مجھے اگلی بار وزیراعظم دیکھنا چاہتے ہیں وہ میرے مخالفین کے حق میں ووٹ نہ ڈالیں۔

میڈیا رپورٹس میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ حال ہی میں امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے متنازعہ خطاب کے بعد بنجمن نتین یاھو کی عوامی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔ رائے عامہ کےجائزوں میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی عوام کی اکثریت نیتن یاھو کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق کھولے دعوئوں اور دھمکیوں پر یقین نہیں رکھتے ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ نیتن یاھو کا کانگریس سے خطاب انتخابی مہم کا حصہ تھا اور وہ اس خطاب کے ذریعے اپنا ووٹ بڑھانا چاہتے تھے۔