.

نیتن یاہو رائے عامہ کے جائزوں میں شکست خوردہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے کثیرالاشاعت روزنامے یدیعوت احرنوت نے ایک سروے رپورٹ میں بتایا ہے کہ پارلیمانی انتخابات میں وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ کو اس کی حریف صہیونیت یونین کے مقابلے میں شکست کا سامنا ہو سکتا ہے۔

اخبار کے سروے میں 1032 رائے دہندگان نے حصہ لیا ہے۔اس کے نتائج کے مطابق صہیونیت یونین پارلیمان کی ایک سو بیس میں سے چھبیس نشستیں جیت سکتی ہے اور نیتن یاہو کی جماعت بائیس نشتسیں حاصل کر سکے گی۔اسرائیل کی عرب جماعتوں کے اتحاد کے حصے میں تیرہ نشستیں آئیں گی۔

اخبار کے مطابق اس سروے میں 2.5 فی صد غلطی کا امکان ہے۔اسرائیل کے دو اور روزناموں یروشلم پوسٹ اور معاریف نے بھی ایک مشترکہ سروے شائع کیا ہے۔اس میں دونوں مذکورہ جماعتوں کی نشستوں میں چار کا فرق ہے۔

اس سروے کے مطابق صہیونیت یونین پچیس نشستیں حاصل کر لے گی جبکہ لیکوڈ کے حصے میں اکیس نشستیں آئیں گی۔عرب جماعتوں کی مشترکہ فہرست کے حصے میں تیرہ نشستیں آئیں گی۔اس سروے میں غلطی کا امکان 3.5 ہے۔

صہیونیت یونین اسحاق ہرتزوگ کی لیبر پارٹی اور سابق وزیرخارجہ زیپی لیونی کی جماعت حاتنوح کے انضمام سے وجود میں آئی ہے۔رائے عامہ کے حالیہ تمام جائزوں میں اس جماعت کو انتہا پسند لیکوڈ پارٹی سے دو سے تین نشستوں کی برتری حاصل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔بائیں بازو کے اخبار ہارٹز میں جمعرات کو شائع ہونے والے ایک سروے کے مطابق صہیونیت یونین چوبیس اور لیکوڈ پارٹی اکیس نشستیں حاصل کرسکے گی۔اس سروے میں بھی عرب جماعتوں کی مشترکہ لسٹ کی تیرہ نشستوں پر کامیابی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل کے انتخابی نظام کے تحت عام انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت ہی حکومت نہیں بناتی ہے بلکہ اگر کم نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کا لیڈر بھی باقی جماعتوں کو ملا کر پارلیمان میں اپنی اکثریت ثابت کردے،تو اس کو حکومت بنانے کی دعوت دے دی جاتی ہے۔