.

بعض حوثی رہ نما سعودی عرب میں مذاکرات کے حامی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں طاقت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کرنے والے شیعہ حوثی گروپ کے بعض قائدین نے قومی مفاہمتی مذاکرات کا عمل سعودی عرب کی میزبانی میں جاری رکھنے کی حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاض میں مذاکرات سے حوثیوں کے صنعاء پر قبضے کو عالمی سطح پر تسلیم کرنے میں مدد ملے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حوثی جماعت کی صف اول کی بیشتر قیادت مفاہمتی مذاکرات کو بیرون ملک منتقل کرنے بالخصوص سعودی عرب کی میزبانی میں آگے بڑھانے کی سخت مخالفت کی ہے۔ تازہ پیش رفت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مفاہمتی مذاکرات کے معاملے میں حوثی کی قیادت میں بھی اختلافات پائے جا رہے ہیں۔

یمنی حکومت کے ایک ذمہ دار ذریعے نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ حوثی شدت پسند گروپ کی اکثریت ریاض کی میزبانی میں مذاکرات آگے بڑھانے کی مخالف ہے۔ تاہم تنظیم کے ایک سرکردہ رہنما نے ریاض میں مذاکرات جاری رکھنے کی حمایت کی ہےْ

ذرائع کا کہنا ہے کہ حال ہی میں حوثیوں کی سیاسی کونسل سے مستعفی ہونے والے رہ نما علی البخیتی نے اپنی جماعت کی قیادت سے کہا ہے کہ وہ ریاض میں ہونے والے مذاکرات کی حمایت کریں کیونکہ سعودی عرب میں جاری مذاکرات سے حوثیوں کے اقتدار پر قبضے کوجواز فراہم کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حوثیوں نے سعودی عرب کا تعاون حاصل نہ کیا تو ان کا انجام بھی عراق کے سابق مصلوب صدر صدام حسین کی جماعت جیسا ہوگا کیونکہ صدام حسین نے بھی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سعودی تعاون حاصل کرنے سے انکار کردیا تھا۔

علی البخیتی کا کہنا ہے کہ ایران۔عراق جنگ کے بعد صدام حسین کی فوج کو ایک مضبوط اور دفاعی اعتبار سے طاقت ور افواج میں شامل کیا جانے لگا تھا۔ عراق کی دفاعی صنعت کو بھی چار چاند لگے تھے، لیکن جیسے ہی یہ تاثر ابھرا کہ صدام حسین خلیجی ممالک اور مغرب کی سلامتی کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔ ان کا گھیرا تنگ کیا جانے لگا۔

حوثی رہ نما نے اپنی قیادت کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ ان کی بقاء خطے کے ممالک کے ساتھ مفاہتمی پالیسی اپنانے میں ہے۔ اگر ٹکرائو کی کیفیت پیدا کی گئی تو حوثیوں کا انجام بھی صدام حسین جیسا ہوسکتا ہے۔