.

شام میں ہلاک ایرانی ملیشیا کے سربراہ کی تہران میں تدفین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران سے موصولہ اطلاعات کے مطابق حال ہی میں شامی محاذ جنگ پر پاسداران انقلاب کی ایک نجی عسکری تنظیم ’’فاطمیون بریگیڈ‘‘ کے سربراہ مہدی صابری سمیت تین افغان جنگجو ہلاک ہو گئے ہیں جن کی میتیں ایران منتقل کیے جانے کے بعد انہیں تہران میں سپرد خاک کیا گیا ہے۔

پاسداران انقلاب کی ترجمان نیوز ویب سائٹ ’’دفاع پریس‘‘ کی جانب جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مہدی صابری اور تین افغان جنگجو پچھلے ہفتے شام کے محاذ جنگ پر مارے گئے تھے۔ مہدی صابری فاطمیون بریگیڈ کے سربراہ تھے جبکہ دیگر مرنے والے جنگجوئوں کا تعلق بھی تنظیم سے تھا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل فاطمیون بریگیڈ کے سربراہ علی رضا توسلی مارچ میں شام میں جاری لڑائی میں مارے گئے تھے۔ توسلی کی ہلاکت کے بعد مہدی صابری کو فاطمیون بریگیڈ کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔

ویب سائٹ پر مقتول عہدیدار کا ایک صوتی بیان بھی جاری نشر کیا گیا ہے۔ یہ بیان انہوں نے اپنی ہلاکت سے چند منٹ قبل ریکارڈ کرایا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ہم دشمن کے گھیرے میں ہیں۔ ہمارے بہت سے ساتھی ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں اور ہم سخت مشکلات میں گھر چکئے ہیں‘‘۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد مہدی صابری بھی شامی باغیوں کے حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

ایرانی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق پچھلے ہفتے سولہ ایرانی اور افغان جنگجوئوں کی میتیں شام سے ایران منتقل کی گئی تھیں جہاں انہیں سرکاری اعزاز واکرام کے ساتھ مختلف شہروں میں سپرد خاک کیا تھا۔ پاسداران انقلاب کے اہم عہدیداروں میں حال ہی میں کرنل محمد صاحب کرم اردکانی بھی شامل ہیں جو ایک ہفتہ پیشتر شام میں لڑائی میں مارے گئے تھے۔