.

"امریکا، بشار الاسد کے اقتدار کا خاتمہ نہیں چاہتا"

سقوط دمشق کے بعد انتہا پسند ملک پر قبضہ کر لیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف جاری عوامی بغاوت کی تحریک کے پرزور حامی امریکا کی جانب سے یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ شام پر انتہا پسندوں کے قبضے کے ڈر سے واشنگٹن دمشق کو بچانے کی کوششیں کررہا ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے’’سی آئی اے‘‘ کے چیف جان برینن نے اپنے ایک بیان میں اعتراف کیا ہے کہ ان کا ملک شام کے اداروں کو اس لیے بچانے کی کوشش کررہا ہے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ سقوط دمشق کی صورت میں انتہا پسند شام پرقبضہ کرسکتے ہیں۔

امریکی عہدیدار نے شام کے مختلف علاقوں میں انتہا پسندوں کے بڑھتے اثرو نفوذ پرگہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا شام کی اعتدال پسند اپوزیشن کی حمایت کرتا ہے۔ ہم عالمی برادری کے ساتھ مل کر شام میں ایک ایسی حکومت لانا چاہتے ہیں کو تمام شامی شہریوں کی نمائندہ ہو ان کے مطالبات پورے کرنے کی اہل ہو۔

خیال رہے کہ شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف چار سال پہلے شروع ہونے والی عوامی بغاوت کے دوران کئی انتہا پسند گروپوں نے بھی جنم لیا ہے۔ ان میں سرفہرست دولت اسلامی’’داعش‘‘ ہے جس نے شام کے ایک بڑے حصے کو اپنی خود ساختہ خلافت میں شامل کر رکھا ہے۔