.

بشارالاسد سے مذاکرات داعش کے لیےتحفہ ہوں گے: فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس نے شامی صدر بشارالاسد سے بحران کے حل کے لیے بات چیت کو سخت گیر جنگجو گروپو دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے لیے ایک ''شرمناک تحفہ'' قرار دیا ہے۔

فرانسیسی وزیرخارجہ لوراں فابیئس نے امریکی وزیرخارجہ جان کیری کے اتوار کو نشر ہونے والے ایک انٹرویو کے ردعمل میں ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انھوں نے شامی صدر سے مذاکرات کی تجویز کو مسترد کردیا ہے۔

اس انٹرویو میں جان کیری نے کہا تھا کہ ہمیں بالآخر تنازعے کے خاتمے کے لیے بشارالاسد سے بات چیت کرنا ہوگی لیکن مسٹر لوراں فابیئس نے کہا ہے کہ شامی صدر کے لیے مستقبل میں کوئی کردار داعش کے لیے تحفے کے مترادف ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ ''شامی تنازعے کا حل سیاسی انتقال اقتدار ہے جس کے تحت رجیم کے اداروں کو تو برقرار رکھا جائے لیکن بشارالاسد کو نہیں۔اس کے سوا ایسا کوئی بھی حل جس کے تحت مسٹر اسد کو برسر اقتدار رہنے دیا جاتاہے تو یہ داعش کے لیے ایک بہت بڑا تحفہ ہوگا''۔

لوراں فابیئس نے برسلز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ایسی صورت میں بشارالاسد نے جن لاکھوں شامیوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں کی ہیں،وہ اپنی حمایت داعش کے پلڑے میں ڈال دیں گے۔لہٰذا شامی صدر سے مذاکرات سے گریز کیا جانا چاہیے''۔

انھوں نے بتایا کہ انھوں نے سوموار کی صبح ہی جان کیری سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے اور انھوں نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ شام سے متعلق امریکا کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جارہی ہے۔

جان کیری نے سی بی ایس نیوز چینل سے اتوار کو نشر کیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے امریکا کو صدر بشارالاسد سے بات چیت کرنا ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ''بالآخر ہمیں مذاکرات کرنا ہوں گے۔ہم ہمیشہ جنیوا اوّل اعلامیے کے تحت مذاکرات کے لیے تیار رہے ہیں''۔

شامی صدر نے امریکی وزیرخارجہ کی جانب سے مذاکرات کی اس مبہم پیش کش کو مسترد کردیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ باہر سے آنے والے اعلامیوں کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔انھوں نے سوموار کو ایرانی ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ہم ابھی تک اعلامیے ہی سن رہے ہیں،ہمیں عملی اقدامات کا انتظار کرنا چاہیے اور پھر ہم فیصلہ کریں گے''۔

بشارالاسد نے کہا کہ ''شام کی صورت حال سے متعلق بین الاقوامی روّیے میں تبدیلی ایک مثبت قدم ہوگی'' لیکن انھوں نے اپنے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ بیرونی ممالک کو شام میں دہشت گرد گروپوں کی حمایت سے باز آجانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''شامی صدر کے مستقبل کے حوالے سے کوئی بھی بات چیت صرف شامی عوام ہی کو کرنی چاہیے اور باہر سے آنے والے اعلامیوں سے ہمارا کوئی علاقہ نہیں ہے''۔واضح رہے کہ بشارالاسد اور ان کی حکومت اپنی وفادار فوج کے خلاف گذشتہ چار سال سے لڑنے والے تمام باغی گروپوں کو دہشت گرد قرار دیتے چلے آرہے ہیں۔