.

شامی صدر کا کوئی مستقبل نہیں: برطانیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے بعد برطانیہ نے شام کے بارے میں اپنی پالیسی واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ شامی صدر بشار الاسد کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں ہے۔ برطانیہ صدر اسد کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں کرے گا۔ برطانوی حکومت کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے کہا ہے کہ شام کی خانہ جنگی کےخاتمے کے حوالے سے بشار الاسد سے بھی بات کی جانی چاہیئے۔

امریکا کے تازہ موقف کے سامنے آنے کے بعد برطانوی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’صدر بشار الاسد کا شام میں کوئی مستقبل نہیں ہے‘‘۔ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے اس موقف کی حمایت سے انکار کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ شام کی خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے صدر اسد کے ساتھ بھی بات چیت ہونی چاہیے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ فیلپ ہیمونڈ نے پچھلے ہفتے شام کے بارے میں اپنی پالیسی واضح کر دی تھی کہ شام میں تشدد کے خاتمے اور اعتدال پسند قوتوں کو اقتدار میں لانے کے لیے اسد رجیم پر پابندیاں عاید کی جانی چاہئیں۔

خیال رہے کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے گذشتہ روز ’’سی بی سی‘‘ ٹیلی ویژن نیٹ ورک کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پانچ سال سے جاری امریکی پالیسی کی تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ تھا شام کی جنگ کے خاتمے کے لیے صدر بشارالاسد کو بھی مذاکرات میں شامل کیا جانا چاہیے۔

تاہم امریکی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان میری ہرف نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جان کیری کے بیان کو امریکا کی اسد رجیم کے بارے میں پالیسی میں تبدیلی پر محمول نہ کیا جائے۔ امریکا اب بھی شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ جان کیری کی جانب سے صدر اسد سے بات چیت کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تو وہ شام کے مسئلے کے بارے میں امریکا کے دیرینہ موقف کی عکاسی کرتا ہے کیونکہ واشنگٹن نے شام کی خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے تمام فریقوں سے بات چیت کی ضرورت پر ہمیشہ زور دیا ہے۔ اگر ہم شام میں صدر بشار الاسد سے بات چیت کی بات کرتے ہیں اس کا یہ مطلب ہر گز یہ نہیں کہ ہم ان کی حکومت کو تسلیم کر رہے ہیں یا براہ راست ان سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔