.

طرابلس:داعش نے بم دھماکے کی ذمے داری قبول کرلی

مصراتہ میں داعش مخالف بٹالین کے کیمپ کے باہر کار بم دھماکا،ایک شخص ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں دولت اسلامی عراق وشام(داعش) سے وابستہ جنگجوؤں نے دارالحکومت طرابلس میں پولیس کے ایک چیک پوائنٹ پراتوار کو بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے جبکہ تیسرے بڑے شہر مصراتہ میں کاربم دھماکے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے۔

طرابلس میں ایک سکیورٹی ترجمان اعصام ناس نے بتایا ہے کہ نواحی علاقے جنزور میں ایک سکیورٹی عمارت کے نزدیک واقع چیک پوائنٹ پر بم حملہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں پانچ پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔بم ایک تھیلے میں چھپایا گیا تھا۔داعش کے جنگجوؤں نے اس بم دھماکے کی جگہ کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر جاری کی ہے۔

مصراتہ میں 166 بٹالین نامی ایک جنگجو گروپ کے کیمپ کے سامنے باردو سے بھری کار کو دھماکے سے اڑا دیا گیا جس سے ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے۔اس کار بم دھماکے کی ذمے داری کسی گروپ نہیں قبول نہیں کی لیکن اس میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف نبرد آزما بٹالین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس بٹالین کی وسطی شہر سرت میں داعش کے جنگجوؤں کے ساتھ ہفتے کے روز سے لڑائی جاری ہے۔

مصراتہ لیبیا کا تیسرا بڑا شہر ہے اور یہ طرابلس سے مشرق میں واقع ہے۔اس شہر کو گذشتہ سال اگست میں طرابلس میں قابض ہونے والے گروپ فجر لیبیا کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے اور یہاں متحارب جنگجو گروپ کے درمیان کوئی زیادہ لڑائی دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔

واضح رہے کہ لیبیا میں مختلف اسلامی جنگجو گروپوں نے گذشتہ چھے ماہ کے دوران داعش کے ساتھ وابستگی کا اظہار کیا ہے اور انھوں نے اس عرصے میں طرابلس میں متعدد بڑے حملوں کی ذمے داری قبول کی ہے۔انھوں نے جنوری میں طرابلس میں ایک لگژری ہوٹل میں کار بم حملےکی ذمے داری قبول کی تھی جس کے نتیجے میں پانچ غیر ملکی ہلاک ہوگئے تھے۔

انھوں نے گذشتہ ماہ مصرسے تعلق رکھنے والے اکیس قبطی عیسائیوں کو بھی سرت میں اغوا کے بعد قتل کردیا تھا اور انھیں ذبح کرنے کی انٹرنیٹ پر تصاویر جاری کی تھیں۔اس کے بعد مصر کے لڑاکا طیاروں نے لیبیا میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کی تھی۔