.

بشارالاسد سے مذاکرات ہٹلر سے ہاتھ ملانے کے مترادف

شامی صدر سے مصافحہ کو تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی:ترک وزیراعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ اور فرانس کے بعد ترکی نے بھی شامی صدر بشارالاسد سے بات چیت کے لیے امریکی وزیرخارجہ جان کیری کی تجویز کی مخالفت کردی ہے اور ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے کہا ہے کہ شامی صدر سے مذاکرات ایڈولف ہٹلر سے ہاتھ ملانے کے مترادف ہوں گے۔

احمد داؤد اوغلو نے منگل کو انقرہ میں حکمراں جماعت آق کے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''مغرب کی جانب سے بشارالاسد سے مذاکرات کے لیے آوازوں سے ہماری اقدار سے متعلق بھی سوالات پیدا ہوگئے ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''اس تمام تر قتل عام اور کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کے باوجود بھی اگر آپ بشارالاسد کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہیں تو پھر اس مصافحہ کو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے یاد رکھا جائے گا''۔

ترکی کے سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر کی گئی تقریر میں انھوں نے کہا کہ ''بشارالاسد یا ہٹلر ،صدام حسین ،(سرب لیڈر) کراجزک اور میلاسووچ کے ساتھ ہاتھ ملانے میں کوئی فرق نہیں ہے''۔

جان کیری نے سی بی ایس نیوز چینل سے اتوار کو نشر کیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے امریکا کو صدر بشارالاسد سے بات چیت کرنا ہوگی اور ہم ہمیشہ جنیوا اوّل اعلامیے کے تحت مذاکرات کے لیے تیار رہے ہیں''۔ تاہم بعد میں امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں اس امر کی وضاحت کی ہے کہ شامی صدر کے ساتھ کوئی سودے بازی نہیں کی جائے گی۔

امریکا شامی حزب اختلاف کا حامی ہے اور وہ ماضی میں بحران کے حل کے لیے شامی صدربشارالاسد کی اقتدار سے علاحدگی کا مطالبہ کرتا رہا ہے لیکن گذشتہ سال اگست سے اس نے سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے خلاف جنگ پر زیادہ توجہ مرکوز کررکھی ہے۔اس نے ترکی سے بھی داعش کے خلاف فضائی مہم میں مدد طلب کی تھی لیکن ترکی ہنوز اس مہم کا حصہ بننے سے گریز کرتا چلا آ رہا ہے۔اس کا مؤقف ہے کہ شامی بحران کے حل کے لیے بشارالاسد کی رخصتی پر مبنی جامع منصوبے کی صورت ہی میں وہ اس جنگ میں فوجی تعاون کرسکتا ہے۔