.

حوثیوں نے وزیراعظم اور حکومتی عہدیداروں کی نظر بندی ختم کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں غیرقانونی طور پر قابض اہل تشیع مسلک کے حوثی شدت پسندوں نے جبری نظر بند کیے گئے منتخب وزیراعظم خالد محفوظ بحاح اور ان کی ٹیکنو کریٹس پر مشتمل کابینہ میں شامل وزراء کی نظر بندی ختم کردی ہے۔

پابندی اٹھائے جانے کے بعد وزیراعظم اور حکومتی عہدیدار آئین کے مطابق اندرون اور بیرون ملک کہیں بھی سفر کرسکتے ہیں۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نظر بندی ختم ہونے کے بعد اپنے ایک بیان میں سبکدوش وزیراعظم خالد بحاح نے کہا ہے کہ صنعاء کے اقتدار پرقابض حوثیوں کے ساتھ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی جمال بنعمر نے مذاکرات کئے۔ اس کے علاوہ حوثیوں پر عالمی برادری کی جانب سے بھی سخت دبائو ڈالا جس کے بعد ہماری نظر بندی اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ انیس جنوری سے نظربند کئی وزیروں کی جبری نظر بندی بھی ختم کردی گئی ہے۔

اپنے بیان میں مسٹر بحاح کا کہنا تھا کہ آئین اور قانون کی رو سے اب وہ ملک کے کسی بھی علاقے میں آزادانہ سفر کرسکتے ہیں۔ سبکدوش وزیراعظم نے کہا کہ میں جلد ہی اپنے خاندان کے ہمراہ صنعاء سے نکل جائوں گا۔ انہوں نے عالمی برادری سے یمن میں امن و استحکام میں بھرپور مدد فراہم کرنے اور سیاسی بحران کے خاتمے میں معاونت کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

دوسری جانب عدن میں قائم یمنی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم اور ان کی کابینہ میں شامل وزراء کی نظر بندی کے خاتمے کے بدلے میں حوثیوں سے کوئی ڈیل نہیں کی گئی ہے۔