.

90 فی صد فنی جوہری ایشوز طے پا گئے:ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے کہا ہے کہ اس کے امریکا کے ساتھ جوہری تنازعے سے متعلق نوّے فی صد ٹیکنیکل ایشوز طے پا گئے ہیں۔ایک اعلیٰ ایرانی عہدے دار نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ مارچ کے آخر میں ڈیڈلائن کے خاتمے تک فریم ورک ڈیل طے پا جائے گی۔

ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار علی اکبر صالحی نے منگل کے روز ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''بڑے ایشوز حل کر لیے گئے ہیں۔مجھے امید ہے ہم باقی وقت میں فریم ورک سمجھوتے کو مکمل کر لیں گے''۔

قبل ازیں انھوں نے سوئٹزر لینڈ کے شہر لاؤسین میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''طرفین کے درمیان فائنل آئٹم سے متعلق ابھی تک اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔اگر یہ مسئلہ حل ہوجاتا ہے تو پھر ٹیکنیکل ایشوز کے تعلق سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ دونوں طرف سے معاملات کلئیر ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''ابھی بہت سی تفصیل باقی ہے،لیکن مجموعی طور پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں ڈیڈلائن سے قبل ڈیل طے پانے سے متعلق پُرامید ہوں''۔طرفین میں ایران کی یورینیم کو افزودہ کرنے کی صلاحیت سے متعلق بنیادی ایشوز اور پابندیاں ہٹانے سے متعلق امور پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔دونوں فریق اس وقت جوہری پروگرام سے متعلق بڑے ایشوز مثلاً سینٹری فیوجز کی تعداد ،یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت اور ایران پر عاید پابندیاں ہٹانے کے نظام الاوقات سے متعلق مارچ کے اختتام سے قبل ایک فریم ورک سمجھوتے پر اتفاق رائے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس کے بعد جون کے آخر تک طرفین میں حتمی ڈیل طے پانے کا امکان ہے۔

امریکا کے ایک سینیر عہدے دار کا کہنا ہے کہ فریقین نے مذاکرات میں پیش رفت کی ہے لیکن ابھی انھیں بہت سے اختلافات کو دور کرنا ہے۔ان کے درمیان ایران پر پابندیوں کے خاتمے کے لیے اقدامات کے حوالے سے اختلافات موجود ہیں اور یہ کہ ابھی ایران کو جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے اور کیا اقدامات کرنا ہوں گے۔

ٹیکنیکل ایشوز میں سب سے اہم سینٹری فیوجز کی تعداد کا مسئلہ ہے اور فریقین کے درمیان ابھی یہ طے نہیں پاسکا ہے کہ ایران کو کتنی سینٹری فیوجز مشینیں رکھنے کی اجازت ہوگی۔یہ مشینیں جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے درکار یورینیم کو افزودہ کرسکتی ہیں۔تاہم ایران کا کہنا ہے کہ وہ جوہری بم تیار نہیں کرنا چاہتا ہے بلکہ توانائی ،طبی اور سائنسی مقاصد کے لیے یورینیم کو افزودہ کرنا چاہتا ہے۔

سوئس شہر لاؤسین میں سوموار کو امریکی وزیرخارجہ جان کیری اور ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے جوہری تنازعے سے متعلق امور طے کرنے کے لیے پانچ گھنٹے تک بات چیت کی تھی۔اس کے بعد ایرانی وفد برسلز چلا گیا تھا جہاں انھوں نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا مغرینی سے بات چیت کی ہے۔جرمن وزیرخارجہ فرینک والٹر اسٹینمئیر نے اس موقع پر کہا ہے کہ آیندہ دوہفتے ہمارے لیے بہت اہم ہیں۔