.

لیبیا میں داعش کا سینیر تیونسی کمانڈر ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کو انتہائی مطلوب دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کا ایک سینیر کمانڈر لیبیا میں لڑائی کے دوران ہلاک ہو گیا ہے۔

تیونس کے سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ احمد الرویسی لیبیا کے شہر سرت کے نزدیک لیبی فورسز کے ساتھ ایک جھڑپ کے دوران مارا گیا ہے۔مقتول تیونس میں برسرپیکار انصارالشریعہ کا سرکردہ رہ نما تھا۔اس گروپ کو امریکا نے دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔اس سے وابستہ جنگجو اس وقت خانہ جنگی کا شکار لیبیا کے مختلف علاقوں میں فجرلیبیا یا پھر سرکاری سکیورٹی فورسز کے خلاف جنگ آزما ہیں اور انھوں نے خود کو دولت اسلامی عراق وشام سے وابستہ کررکھا ہے۔

تیونسی حکام کو یقین ہے کہ احمد الرویسی ہی سنہ 2013ء میں حزب اختلاف کے دو لیڈروں کے قتل کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ان دونوں سیاست دانوں کے قتل کے بعد تیونس سیاسی بحران کا شکار ہوگیا تھا اور اعتدال پسند اسلامی جماعت النہضہ کی منتخب حکومت کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔

تیونسی سکیورٹی ذرائع کے مطابق احمدالرویسی نے بعد میں لیبیا میں داعش میں شمولیت اختیار کرلی تھی اور وہ وہاں دوسرے غیرملکیوں کے ساتھ مل کر جنگجوؤں کی تربیت اور بھرتی کی سرگرمیوں میں شریک تھا۔

واضح رہے کہ تیونس سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد شام اور عراق میں داعش یا دوسرے جنگجو گروپوں کی صفوں میں شامل ہو کر لڑرہی ہے اور اب وہ تیونس کے پڑوسی ملک لیبیا کا رُخ بھی کررہے ہیں جہاں انھوں نے پہلے سے موجود جنگجو گروپوں میں شمولیت کے بجائے الگ سے داعش قائم کر لی ہے اور اس کے جنگجوؤں کی حالیہ دنوں میں دارالحکومت طرابلس پر قابض فجر لیبیا کی فورسز سے بھی جھڑپیں ہوئی ہیں۔

درایں اثناء تیونس نے جنگجوؤں کی بھرتی کے لیے قائم نیٹ ورک کو ختم کرنے کی اطلاع دی ہے۔یہ سیل جنگجوؤں کو بھرتی کرکے لیبیا بھیج رہا تھا۔سکیورٹی فورسز نے تیس سے زیادہ مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق سکیورٹی افسروں اور فوج نے دس دہشت گردوں کو لیبیا میں دراندازی کی کوشش کے دوران پکڑ لیا ہے۔

بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے چار سیلوں کو ختم کردیا ہے۔یہ سیل لوگوں کو لیبیا میں لڑائی کے لیے بھرتی کررہے تھے۔سکیورٹی فورسز نے ان چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران بائیس مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔