.

''تیونسی سراغرساں ادارے ایک حملہ آورسے آگاہ تھے''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے وزیراعظم حبیب الصید نے کہا ہے کہ دارالحکومت کے مشہور باردو میوزیم پر حملہ کرنے والے دو مسلح افراد میں سے ایک کے بارے میں انٹیلی جنس ادارے پہلے سے آگاہ تھے۔

انھوں نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ انٹیلی جنس ادارے کو حملہ آور یاسین العبیدی کے بارے میں حملے سے قبل پتا تھا ۔تاہم حکام اس کے اور کسی دہشت گرد گروپ کے درمیان تعلق کا سراغ نہیں لگا سکے ہیں۔

تیونس میں گذشتہ تیرہ سال میں یہ سب سے تباہ کن حملہ تھا اور اس میں بائیس افراد ہلاک اور پچاس سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔مسلح افراد نے باردو عجائب گھر میں جانے کے لیے بسوں سے اترنے والے سیاحوں پر اندھا دھند فائرنگ کردی تھی۔

وزیراعظم حبیب الصید نے بتایا ہے کہ عجائب گھر پر حملے میں مرنے والوں میں دو تیونسی شہری ،پانچ جاپانی ،چار اطالوی اور دو کولمبیائی ہیں اور آسٹریلیا ،فرانس ،پولینڈ اور اسپین کا ایک ایک شہری ہلاک ہوا ہے۔

مذمت

اقوام متحدہ ،امریکا ،متحدہ عرب امارات ،جرمنی ،فرانس، برطانیہ اور جاپان نے دہشت گردی کے اس حملے کی مذمت کی ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے باردو میوزیم پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مہلوکین کے لواحقین کے ساتھ دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

جاپانی وزیراعظم شنزو ایب نے بدھ کو حملے میں اپنے تین شہروں کی موت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عالمی برادری کے ساتھ مزید تعاون کریں گے۔قبل ازیں جاپانی وزیرخارجہ فومیو کشیدہ نے حملے کو دہشت گردی کی سفاکانہ کارروائی قرار دیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ایرنسٹ نے کہا ہے کہ امریکا حملے کی تحقیقات کے لیے تیونسی حکام کی مدد کو تیار ہے اور وہ دہشت گردانہ تشدد کے خلاف اپنے تیونسی شراکت داروں کے ساتھ کھڑا ہے۔