.

یزیدیوں کی نسل کشی، داعش پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے تحقیقات کاروں نے اپنی ایک نئی رپورٹ میں کہا ہے سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) نے عراق میں یزیدی اقلیت کے خلاف نسل کشی کا ارتکاب کیا تھا۔انھوں نے ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ داعش کے خلاف اس الزام میں مقدمہ چلائے۔

تحقیقاتی کمیشن کی یہ رپورٹ ایک سو سے زیادہ متاثرہ افراد اور عینی شاہدین کے بیانات اور انٹرویوز پر مبنی ہے۔اس میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یزیدیوں کی نسل کشی کے ذمے داروں کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے معاملہ آئی سی سی کو بھیجے۔

اس تحقیقاتی کمیشن نے عراقی حکومت اور اس کی اتحادی فورسز پر بھی جنگی جرائم میں ملوث ہونے کا الزام عاید کا ہے۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے گذشتہ سال ستمبر میں داعش کی عراق کے شمالی علاقوں پر چڑھائی کے بعد اپنی تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔

کمیشن کو عراق میں داعش کے زیر قبضہ علاقوں میں نسل کشی ،انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم سے متعلق معلومات ملی ہیں اور رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ داعش نے عراق کے دیہات اور قصبوں کے محاصرے کے وقت یزیدیوں کے علاوہ عیسائیوں اور دوسری اقلیتوں پر حملے کیے تھے۔

اقوام متحدہ کے تحقیقات کاروں نے اپنی رپورٹ میں داعش پر کلورین گیس استعمال کرنے کے الزامات کا بھی حوالہ دیا ہے۔داعش کے جنگجوؤں نے گذشتہ سال ستمبر میں مغربی صوبے الانبار میں مبینہ طور پر عراقی فوجیوں کے خلاف کلورین گیس کا استعمال کیا تھا۔

رپورٹ میں داعش پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے لڑائی کے دوران یرغمال بنائی گئی خواتین کو باندیاں بنا لیا تھا اور شمالی شہر موصل میں اس کے تحت قائم اسلامی شرعی عدالتوں نے مبینہ ملزموں کو سخت سزائیں سنائی ہیں۔ان کے ہاتھ کاٹے ہیں اورسنگسار کیا ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے تیرہ کم سن لڑکوں کو محض فٹ بال میچ دیکھنے کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی۔

اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کے بہ قول عراقی حکومت کی فورسز پر الزام عاید کیا جاتا ہے کہ انھوں نے بیرل بم استعمال کیے تھے لیکن اس سے متعلق مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔بین الاقوامی قانون کے تحت اس ہتھیار کے استعمال پر پابندی ہے۔