.

یو این میں اسرائیل کی پشتی بانی،امریکا کا نظرثانی پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اوباما انتظامیہ نے اقوام متحدہ میں اسرائیل کی سفارتی پشتی بانی سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے اور اس نے اسرائیل میں حالیہ انتخابات میں انتہا پسند وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی کامیابی کے بعد اس حوالے سے غور شروع کردیا ہے۔

نیتن یاہو نے انتخابات کے انعقاد سے صرف ایک روز قبل کہا تھا کہ وہ فلسطینی ریاست قائم نہیں ہونے دیں گے۔وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ایرنسٹ نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''امریکا نے اقوام متحدہ میں دو ریاستی حل کے نظریے کے حق میں ہی اقدامات کیے تھے اور یہی اس کے نزدیک تنازعے کا بہترین حل ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''اب ہمارے اتحادی یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ اس حل کے حق میں نہیں۔اس کا یہ مطلب ہے کہ ہمیں اس معاملے میں اپنے موقف پر نظرثانی کرنا ہوگی اور پھر اسی کو ہم آگے بڑھائیں گے''۔

لیکن نیتن یاہو جمعرات کو اپنی انتخابی مہم کے دوران اسرائیلی ووٹروں سے کیے گئے وعدے سے منحرف ہوتے دکھائی دیے ہیں۔انھوں نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اپنے وعدے پر قائم ہیں لیکن اس کی شرط یہ عاید کی ہے کہ اگر خطے کی صورت حال بہتر ہوجاتی ہے تو وہ دو ریاستی حل کے حق میں ہیں۔

انھوں نے ایم ایس این بی سی کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ ''میں نے اپنی پالیسی تبدیل نہیں کی ہے۔میں نے اپنی تقریر سے انحراف نہیں کیا ہے''۔وہ اپنی 2009ء کی ایک تقریر کا حوالہ دے رہے تھے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے دو ریاستی حل کے حق میں ہیں اور وہ ایسی غیر مسلح فلسطینی ریاستی کے قیام پر اتفاق کرلیں گے جو اسرائیل کو ایک صہیونی ریاست کے طور پر تسلیم کر لے''۔

مغرب کے حمایت یافتہ فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل کو بطور ریاست تو تسلیم کر رکھا ہے لیکن وہ اس کو صہیونی ریاست تسلیم نہیں کرتے ہیں۔نیتن یاہو نے انٹرویو میں کہا ہے کہ ''میں (تنازعے کا) صرف ایک ریاستی حل نہیں چاہتا ہوں بلکہ میں ایک پائیدار اور پُرامن ریاستی حل چاہتا ہوں لیکن اس کے لیے حالات تبدیل ہونے چاہئیں''۔