.

امریکی سینیٹ میں ایران بل پر رائے شماری مؤخر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی سینیٹ نے ایران کے جوہری تنازعے پر طے پانے مجوزہ معاہدے سے متعلق بل پر رائے شماری 14 اپریل تک مؤخر کردی ہے۔اس بل کی منظوری کی صورت میں صدر براک اوباما ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کو جائزے کے لیے کانگریس میں پیش کرنے کے پابند ہوں گے۔

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چئیرمین باب کروکر اور ڈیموکریٹ رکن رابرٹ میننڈیز نے مشترکہ طور پر اس بل کو تیار کیا ہے۔انھوں نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ارکان نے اس متنازعہ بل پر رائے شماری کو مزید دو ہفتے کے لیے مؤخر کرنے سے اتفاق کیا ہے۔

ایران اور بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری تنازعے پر فریم ورک سمجھوتے کے لیے 31 مارچ کی ڈیڈلائن مقرر ہے اور اسی تاریخ کے پیش نظر امریکی سینیٹ میں بھی ''ایران نیو کلئیرایگری منٹ ریویو ایکٹ'' کے نام سے مجوزہ قانون پر رائے شماری بھی دو ہفتے کے لیے مؤخر کی گَئی ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹروں کے ایک گروپ نے قبل ازیں خبردار کیا تھا کہ وہ مذاکرات کو ایک موقع دینا چاہتے ہیں اور وہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کا کوئی نتیجہ برآمد ہونے سے قبل اس بل کے حق میں ووٹ نہیں دیں گے۔

کروکر،مینڈیز بل کی منظوری کی صورت میں صدر اوباما ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کو کانگریس میں پیش کرنے کے پابند ہوں گے۔وہ اس کا ساٹھ روز میں جائزہ لے گی اور وہ اس کو مسترد بھی کرسکتی ہے۔اگر ایران اس ڈیل کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوگا تو کانگریس اس پر مزید اقتصادی پابندیاں عاید کرسکے گی۔

قبل ازیں صدر براک اوباما کی انتظامیہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر کانگریس ایران کے خلاف نئی پابندیوں کی منظوری دے دیتی ہے تو اس سے تہران حکومت کو مذاکرات کے بائیکاٹ کا جواز مل سکتا ہے۔اس وقت ایران اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک اور جرمنی کے نمائندوں کے درمیان جوہری تنازعے کے حل کے لیے برسلز میں مذاکرات جاری ہیں۔

ایران نے اسی ہفتے کہا ہے کہ اس کے امریکا کے ساتھ جوہری تنازعے سے متعلق نوّے فی صد ٹیکنیکل ایشوز طے پا گئے ہیں۔ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار علی اکبر صالحی نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ مارچ کے اختتام پر ڈیڈلائن کے خاتمے تک فریم ورک ڈیل طے پا جائے گی۔

طرفین میں ایران کی یورینیم کو افزودہ کرنے کی صلاحیت سے متعلق بنیادی ایشوز اور پابندیاں ہٹانے سے متعلق امور پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔دونوں فریق اس وقت جوہری پروگرام سے متعلق بڑے ایشوز مثلاً سینٹری فیوجز کی تعداد ،یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت اور ایران پر عاید پابندیاں ہٹانے کے لیے نظام الاوقات سے متعلق فریم ورک سمجھوتے پر31 مارچ سے قبل اتفاق رائے کے لیے کوشاں ہیں۔اس کے بعد جون کے آخر تک طرفین میں حتمی معاہدہ طے پانے کا امکان ہے۔