.

ایران نے جوہری تنازع پر تین نکاتی فارمولے کی ایک تجویز مسترد کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اور عالمی طاقتوں کےدرمیان تہران کے متنازع جوہری پروگرام پر سوئٹرزلینڈ میں مذاکرات جاری ہیں تاہم دوسری جانب ’’العربیہ‘‘ کو اپنے ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ ایران نے تنازع کے حل کے سلسلے میں پیش کیے گئے تین نکاتی فارمولے میں سے ایک تجویز تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔

ادھر دوسری جانب امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے لوزان میں ایرانی وفد کے ساتھ مذاکرات کے بعد ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ’’مذاکرات مشکل‘‘ مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بات چیت میں اہم پیش رفت بھی ہوئی ہے۔ توقع ہے کہ فریقین 31 مارچ کی ڈیڈ لائن سے قبل ہی کسی فارمولے پر متفق ہوجائیں گے۔

اس موقع پر ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کا کہنا تھا کہ ہم جوہری مسئلے کے پیچیدہ معاملات کے حل کی کوشش کررہے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم نے کچھ اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

قبل ازیں ذرائع نے یہ اطلاع بھی دی تھی کہ سوئٹرزلینڈ میں جاری مذٓاکرات میں ایران کو زیادہ سے زیادہ 6000 تک سینٹری فیوجزتک افزودہ کرنے اجازت دی گئی ہے۔

ایرانی وزیرخارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے مذاکرات میں اہم پیش رفت کی ہے مگر ابھی بہت سا کام ہونا باقی ہے۔

ایرانی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق جواد ظریف نے اپنے امریکی ہم منصب جان کیری سے بھی ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں انہوں نے امریکی وزیرخارجہ کو بتایا کہ ہم بہتر سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں لیکن ہماری مکمل کامیابی کے لیے بہت کچھ کرنا ابھی باقی ہے‘‘۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار کا کہناہے کہ سوئٹرزلینڈ کے شہر لوزان میں جاری مذاکرات میں ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر سمجھوتے کے حوالے سے ابھی تک کوئی سمجھوتہ طے نہیں کیا گیا۔ معاہدے کا مسودہ تیار کرنے میں ابھی مزید وقت لگے گا۔ خیال رہے کہ لوزان میں مسلسل تیسرے روز جاری رہنے والے مذاکرات میں ایران اور گروپ چھ کے مندوبین نے شرکت کی۔

فرانسیسی سفارتی ذریعے کا کہنا ہے کہ ایرانیوں کی جانب سے تنازع کے حل کے سلسلے میں 90 فی صد معاملات طے پا جانے کے دعوے میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک ہم سمجھوتے پر دستخط کرنے سے بہت دور کھڑے ہیں۔ ابھی بہت سا کام ہونا باقی ہے۔ ایرانی وفد پر امید ہے جبکہ امریکی مذاکرات کار خاموش ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت زیربحث موضوع میں یورینیم کی افزودگی کے لیے حد مقرر کرنے اور ایران پر عاید عالمی اقتصادی پابندیوں میں نرمی لانے پر مرکوز ہے لیکن اس باب میں فریقین کو کافی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔