.

سویڈش وزیرخارجہ کو سعودی مخالف بیان پر تنقید کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سویڈش وزیرخارجہ مرگوٹ وال اسٹروم کے سعودی عرب کے خلاف بیان کے بعد خلیجی عرب ریاستوں اور سویڈن کے درمیان سفارتی اور تجارتی تعلقات میں سرد مہری آگئی ہے جبکہ سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز آل الشیخ نے کہا ہے کہ ان کے ملک کے عدالتی نظام پر تنقید کرنے والے یا تو جاہل ہیں یا پھر متعصب ہیں۔

سویڈش کی کاروباری برادری نے وزیرخارجہ کے بیان سے پیدا ہونے والے تنازعے پر اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس سے ملک کی دفاعی صنعت کی برآمدات پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور اس کے مجموعی طو پر ملک کے لیے سنگین معاشی مضمرات ہوں گے۔

اسی ماہ کے آغاز میں والوو کے سربراہ ،فیشن چین ایچ اینڈ ایم کے چئیرمین اسٹیفن پرسن اور چیف ایگزیکٹو آفیسر بنک گروپ ایس ای بی انیکا فالکنگرن سمیت اکتیس سرکردہ کاروباری لیڈروں نے اسٹاک ہوم حکومت سے ایک مشترکہ درخواست میں مطالبہ کیا تھا کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ ایک نیا دفاعی صنعتی سمجھوتا کرے تاکہ سویڈن کے برآمدی اور کاروباری مفادات کا تحفظ کیا جاسکے۔

ان کاروباری لیڈروں نے اخبار ڈی این ڈیبیٹ میں شائع شدہ ایک مشترکہ بیان میں حکومت پر زوردیا تھا کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ بات چیت کا دروازہ بند نہ کرے۔انھوں نے کہا کہ ''تجارت کے بغیر سویڈن عالمگیر دنیا میں اپنی آواز کھو بیٹھے گا اور وہ حقیقی تبدیلی بھی نہیں لاسکے گا''۔

سویڈیش ٹیلکام کمپنی ایرکسن کے چئیرمین لیف جانسن نے اخبار ڈاجنز انڈسٹری سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''اگر آپ عرب لیگ میں سے کسی کو اپنا دشمن بنا لیں تو اس کا آپ کو بھاری خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے''۔

واضح رہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سویڈن سے فوجی آلات اور دفاعی سازوسامان کے مستقل خریدار ہیں۔حالیہ برسوں کے دوران سعودی عرب نے سویڈن سے دو ساب طیارے اور دو سو ٹینک شکن میزائل سسٹم خرید کیے ہیں۔متحدہ عرب امارات نے سویڈن سے دو طیارے ،سولہ چھوٹے بحری جہاز ،چھے راڈار اور سات بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے خریدے ہیں۔

دبئی میں قائم انسٹی ٹیوٹ برائے مشرق قریب اور خلیج عسکری تجزیات کے چیف ایگزیکٹو ریاض قہواجی نے امریکی جریدے ڈیفنس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''سویڈن کی جانب سے اس طرح کے کسی اقدام کے صرف اسلحے کی تجارت پر ہی اثرات مرتب نہیں ہوں گے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر مضمرات ہوں گے۔اس کا یہ مطلب ہے کہ اگر آپ سعودی عرب کو اسلحہ نہیں بیچنا چاہتے ہیں تو پھر آپ اس کے ساتھ کوئی اور کاروبار بھی نہیں کرسکتے ہیں''۔

سویڈش حکومت سعودی عرب کے ساتھ فوجی تعاون کو ختم کرنے کے اعلان سے پیدا ہونے والی صورت حال پر قابو پانے کے لیے کوشاں ہے۔اس نے بدھ کو ملک کے نمایاں چالیس کاروباری اداروں کے سربراہوں کا اجلاس طلب کیا تھا اور ان سے خلیجی عرب ممالک کے ساتھ کاروباری تعلقات کو بہتر بنانے کے سلسلے میں تجاویز پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

سعودی عرب نے گذشتہ ہفتے اسٹاک ہوم میں متعیّن اپنے سفیر کو سویڈش وزیرخارجہ کے بیانات کے خلاف احتجاج کے طور پر واپس بلا لیا تھا اور سویڈن پر اپنے داخلی امور میں ننگی مداخلت کا الزام عاید کیا تھا۔ سعودی عرب نے سویڈش وزیرخارجہ کے مخالفانہ بیان کے بعد جمعرات کو کسی سویڈش شہری کو کاروباری ویزا جاری کرنے سے انکار کردیا ہے۔

سویڈش وزیرخارجہ کے بیان کی مذمت

درایں اثناء سعودی مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز آل الشیخ نے سویڈش وزیرخارجہ کی مملکت کے عدالتی نظام پر تنقید کی مذمت کی ہے۔انھوں نے کہا کہ جو کوئی بھی شرعی عدالتی نظام کے آزاد اور قانونی ہونے سے متعلق سوال اٹھاتا ہے ،وہ یا تو جاہل ہے یا پھر متعصب ہے۔انھوں نے کہا کہ اس طرح کے دعوے حقیقت کو غط انداز میں بیان کرنے کے عکاس ہیں۔

انھوں نے اپنے ہفتہ وار ریڈیو پروگرام میں کہا کہ ''گذشتہ ہفتے سویڈش پارلیمان میں مرگوٹ وال اسٹروم کا سعودی عدالتی نظام سے متعلق بیان جھوٹ پر مبنی تھا۔سعودی عرب کا عدالتی نظام قرآن وسنت پر مبنی ہے اور یہ آزاد اور قانونی ہے۔عدالتیں غیر جانبدار ہیں اور ہر کسی کو انصاف مہیا کررہی ہیں۔ہمارا دین ملک میں ہر کسی کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔یہ کسی پر جبر نہیں کرتا اور نہ مسلم اور غیر مسلم میں امتیاز کرتا ہے''۔

شیخ عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ ''سعودی خواتین کو قانون کے تحت تحفظ حاصل ہے۔اگر کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ سعودی عرب میں خواتین کو حقوق حاصل نہیں ہیں تو وہ برسرزمین حقائق سے آگاہ ہی نہیں ہے۔ہمارے ملک میں خواتین کو تمام مواقع حاصل ہے''۔آل الشیخ نے کہا کہ مسلمانوں کو اس تنقید پر یقین نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وہ گم راہ کن نظریات پھیلا رہے ہیں۔

خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکریٹری جنرل عباللطیف الزیانی نے جدہ میں سویڈش سفیر ڈاگ جوہلین ڈان فیلٹ کو طلب کر کے ان سے وزیرخارجہ مرگوٹ وال سٹروم کے ریمارکس کی مذمت کی ہے اور ان کے بیان کو سعودی عرب کے داخلی امور میں مداخلت قرار دیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے ابوظبی میں متعیّن سویڈش سفیر کو جمعرات کو طلب کر کے ان سے وزیرخارجہ کے سعودی عرب کے خلاف حالیہ جارحانہ بیانات پر سخت احتجاج کیا ہے اور ان کی مذمت کی ہے۔