.

صدارتی محل پر حملے کے بعد یمنی صدر محفوظ مقام پر منتقل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے جنوبی شہر عدن میں صدر عبد ربہ منصورھادی کے عارضی صدارتی محل پر جمعرات کے روز ایک جنگی طیارے نے بمباری کی ہے تاہم صدر ھادی محفوظ ہیں اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔ یمنی صدر نے اپنی حکومت کا تختہ الٹنے کا الزام سابقہ حکمرانوں پر عاید کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یمنی سیکیورٹی ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ جمعرات کے روز ایک فوجی طیارے نے عدن میں ’’المعاشیق‘‘ صدارتی محل پر بمباری کی جس کے بعد دھوئیں کے بادل بلند ہوتے دیکھے گئےتھے تاہم بمباری میں صدر ھادی محفوظ رہےہیں اورانہیں ایک دوسرے محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق صدر ھادی اندرون ملک ہی ہیں ان کے بیرون ملک روانہ ہونے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق جمعرات کو ایک نامعلوم فوجی طیارے کے ذریعے عدن میں صدر منصور ھادی کے صدارتی محل پربمباری کی گئی جس کے بعد فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں۔ فضاء میں موجود طیارے کو نشانہ بنانے کی بھی کوشش کی گئی تاہم بمباری کے بعد طیارہ واپس ہوگیا تھا۔

ادھر العربیہ ٹی وی کے ایک ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ فوج نے جنوبی یمن کےشہر عدن میں سابق صدر علی عبداللہ صالح کے حامیوں کے مراکز پر چھاپے مارے ہیں۔ وزیردفاع محمد الصبیحی کی قیادت میں ہونے والے اس آپریشین میں اہل تشیع مسلک کے حوثیوں اور علی عبداللہ صالح کے متعدد حامیوں کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔ کارروائی کے دوران دونوں طرف سے ایک دوسرے پر فائرنگ بھی کی گئی۔

قبل ازیں عدن ہوائی اڈے پر ایک جھڑپ کے بعد یمنی فوج نے عسکریت پسندوں کو وہاں سے نکال باہر کیا تھا۔ جھڑپ میں تین سیکیورٹی اہلکاروں سمیت کم سے کم چھ افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوگئے تھے۔

یمنی حکومت کے ایک دوسرے ذریعے نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی’’اے ایف پی‘‘ کو بتای اکہ عدن ہوائی اڈے پر فائرنگ کے واقعے کے بعد کئی گھنٹے تک فضائی سروس معطل ہوگئی تھی۔ تاہم بعد ازاں طیاروں کی آمد ورفت کو بحال کر دیا گیا ہے۔

عدن ہوائی اڈے کےمسافروں نے بتایا کہ ان کا طیارہ جیسے ایئر پورٹ پراترا تو ہمیں بتایا گیا کہ اڈے پر کشیدگی پائی جا رہی ہے اس لیے اْپ دوبارہ طیارے میں سوار ہوجائیں۔ ہم لوگ دوبارہ طیارے میں سوار ہوگئے کیونکہ ہوئی اڈے کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر مسلح افراد نے قبضہ کر رکھا تھا۔