.

مبارک دور کے وزیرداخلہ کرپشن کیسز میں بری، رہائی کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک فوجداری عدالت نے سابق معزول صدر محمد حسنی مبارک کے دور کے متنازع وزیر داخلہ حبیب العادلی کو بدعنوانی، منافع خوری اور سرکاری عہدے کے ناجائز استعمال جیسے مقدمات سے بری کردیا ہے۔ جس کے بعد انہیں سوموار کےروز رہا کیے جانے کا امکان ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق الجیزہ کے مقام پر قائم فوج داری عدالت نے جمعرات کے روز اپنے فیصلے میں سابق وزیر داخلہ حیب العادلی پر عاید کرپشن کے الزامات کے ثبوت ناکافی قرار دیتے ہوئے انہیں بری کردیا۔

خیال رہے کہ سابق وزیر داخلہ پر 181 ملین مصری پائونڈ کی غیرقانونی منافع خوری، زرعری اراضی اپنے خاندان کو الاٹ کرانے سمیت اپنے عہدے اور منصب کا ناجائز استعمال کرتےہوئے اپنی دولت میں بے پناہ اضافہ کرنے جیسے الزامات عاید کیے تھے۔

مصر کے محکمہ انسداد بدعنوانی کی جانب سے عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ سابق وزیرداخلہ حبیب العادلی نےاپنی وزارت کے عہدے سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے خاندان کو سرکاری زرعی اراضی ذاتی مقاصد کے لیے الاٹ کرائی تھی۔

عدالت نے سابق زیرداخلہ پر زرعی اراضی ہتھیانے اور اسے اپنے خاندان میں تقسیم کرنے کے الزات کی تحقیقات کیں۔ ان کے خلاف دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ حبیب العادلی نے سرکاری اراضی کو اپنے خاندان میں تقسیم کر کے غیرقانونی طور پر 06 ملین، تین لاکھ 95 ہزار300 مصری پائونڈ کا منافع حاصل کیا تھا۔

درخواست میں بتایا گیا تھا کہ سابق وزیر داخلہ کی جانب سے شیخ زاید شہر میں سرکاری زرعی اراضی اپنے بیٹوں شریف، دالیا، جہیان اور رانیا کو چار الگ الگ پلاٹوں کی شکل میں الاٹ کرائی تھی۔ کسی سرکاری عہدیدار کے لیے اس زمین کوحاصل کرنا اور پھر اسے اپنے خاندان میں تقسیم کرنا خلاف قانون ہے۔

مصر کے ایک قانونی مشیر ایڈووکیٹ ڈاکٹر عصام البطاوی کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کے خلاف کرپشن کے تمام کیسز ختم ہوگئے ہیں اور عدالت نے انہیں بری کردیا ہے جس کے بعد اب وہ آزاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے جتنا عرصہ انہیں حراست میں رکھنا تھا رکھ لیا ہے۔ ان کی قید کی مدت پوری ہوچکی ہے۔ اس سے قبل وہ سنہ 2011ء میں انقلاب کے دوران مظاہرین کے قتل عام کے الزام میں بھی بری ہوچکے ہیں۔ توقع ہے کہ سوموار تک انہیں رہا کر دیا جائے گا۔

رہائی کے بعد سابق وزیر داخلہ کی زندگی کو درپیش خطرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مصر کے سیکیورٹی امور کے ماہر بریگیڈیئر خالد عکاشہ نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ حبیب العادلی کو سیکیورٹی کے حوالے سے خطرات کا سامنا رہے گا تاہم حکومت کی طرف سے ان کی بریت کے بعد ان کے ساتھ ایک سابق وزیر ہی جیسا سلوک کیا جائے گا۔ العادلی کسی بھی سابق وزیر کی طرح سرکاری مراعات اور پنشن حاصل کرسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت حبیب العادلی کے خاندان کے پاس مصری شہر "اکتوبر 6" میں ایک محل موجود ہے۔ رہائی کے بعد وہ فورا وہیں منتقل ہوں گے۔

خالد عکاشہ کا کہنا تھا کہ سابق وزیر کی بریت اور ان کی رہائی کے بعد سیکیورٹی کے انتظامات کرنا وزارت داخلہ کی ذمہ داری ہے۔ وزارت داخلہ ان کی رہائش گاہ کی فول پروف سیکیورٹی یقینی بنائے گی۔